
دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو
تصویر: پریس ریلیز
نئی دہلی: دہلی کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ دہلی میں پینے کے پانی کا بحران پیدا ہونا وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی دہلی کے تئیں ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20 جنوری سے دہلی میں مسلسل پانی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ ہریانہ کی جانب سے مُنک نہر کی مرمت کے باعث حیدرپور، بوانا، دوارکا اور چندراول واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کو نصف سے بھی کم پانی مل رہا ہے، اور جمنا میں امونیا کی سطح بڑھ کر 6 پی پی ایم ہو جانے کے سبب جمنا کا پانی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں نہیں لیا جا رہا ہے۔ کیونکہ اگر پانی میں امونیا کی سطح 1 پی پی ایم ہو تو کلورین کے ذریعے پی پی ایم لیول کو ڈائلیوٹ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی عدم حساسیت کے باعث پانی کی متبادل انتظامات نہ کرنے کی وجہ سے شمالی، شمال مغربی، جنوبی اور جنوب مغربی دہلی میں پانی کے لیے ہنگامہ مچا ہوا ہے۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے کہا کہ جب ہریانہ حکومت نے مُنک نہر کی مرمت کے بارے میں پہلے ہی دہلی جل بورڈ کو مطلع کر دیا تھا، پھر بھی دہلی کو مُنک نہر سے ملنے والے پانی کی کمی کی تلافی نہ کرنا دہلی حکومت کی ناکامی ہے۔ اس کے باعث گزشتہ 3 دنوں سے نصف سے زیادہ دہلی پانی کے لیے پریشان ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی کی پانی کی سپلائی کا 80 فیصد، یعنی 667 ایم جی ڈی پانی مُنک نہر سے آتا ہے اور حکومت کی جانب سے اس کی سنگینی کو نہ سمجھنے کے سبب ہی دہلی کی 3 کروڑ عوام آبی بحران سے دو چار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبی بحران 4 فروری تک برقرار رہے گا، اس لیے ریکھا حکومت کو ہریانہ سے ہتھنی کنڈ سے جلد از جلد زیادہ پانی چھوڑنے کے لیے بات کرنی چاہیے تاکہ دہلی والوں کو راحت مل سکے۔
Published: undefined
دہلی کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ جمنا کی صفائی کے لیے 680 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کرنے کے باوجود اگر جمنا میں امونیا کی سطح 6 پی پی ایم ہے تو گزشتہ 10 مہینوں میں ریکھا گپتا حکومت نے جمنا میں کتنی صفائی کی ہے، یہ دہلی کی عوام کے سامنے آ چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا صفائی اور پانی سے متعلق سرکاری پروگراموں میں جمنا کی صفائی پر صرف بڑی بڑی اعلانات ہی کرتی ہیں، جمنا کی صفائی پر ان کا طرز عمل پچھلی عام آدمی پارٹی کی حکومت جیسا ہی ہے۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں پانی کی فراہمی کے لیے بی جے پی حکومت کو زیر زمین آبی ذخائر کی زیادہ تعداد میں تعمیر پر توجہ دینی چاہیے، اور جو زیر زمین ذخائر موجود ہیں ان کی دیکھ بھال اور انہیں مزید فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ دہلی جل بورڈ 35 نئے انڈر گراؤنڈ ریزروائر بنا کر چندراول اور وزیر آباد واٹر کمانڈ ایریا سے پانی سپلائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جبکہ حکومت کو ایسے منصوبے غریب بستیوں کے لیے بھی بنانے چاہئیں جہاں پانی ہی نہیں پہنچتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو نئے یو جی آر بنانے کے ساتھ ساتھ دہلی میں وجود کھو چکے تالابوں اور جھیلوں کے لیے بھی منصوبہ بنانا چاہیے، کیونکہ دہلی کی جھیلیں کروڑوں کے بدعنوانی کے ساتھ دستاویزات میں تو پانی سے بھری ہوئی ہیں، لیکن حقیقت میں خشک پڑی ہیں۔
Published: undefined
دیویندر یادو کا کہنا ہے کہ دہلی کی آبادی کے لیے 1290 ایم جی ڈی پانی کی ضرورت ہے، جبکہ موجودہ وقت میں صرف 1005 ایم جی ڈی پانی ہی دستیاب ہو پا رہا ہے۔ یہ بہت حیرت انگیز ہے کہ گزشتہ 11 برسوں میں عام آدمی پارٹی کی حکومت محض 50 ایم جی ڈی پانی کی دستیابی بڑھا پائی، کیونکہ 2013 میں کانگریس حکومت کے دوران 906 ایم جی ڈی پانی دستیاب تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی ریکھا حکومت نے اب تک پانی کی گنجائش بڑھانے کے لیے کسی منصوبے کا اعلان نہیں کیا، جبکہ آج دہلی کو سب سے پہلے پینے کے پانی کی ضرورت ہے، جس کی فراہمی میں ریکھا حکومت پوری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
Published: undefined