راہل گاندھی تین سال بعد دوبارہ پہنچے ہریانہ کے گاؤں مدینہ، کسان کی بیٹی کی شادی میں شریک
راہل گاندھی 3 سال بعد ہریانہ کے سونی پت ضلع کے گاؤں مدینہ پہنچے اور کسان سنجے ملک کی بیٹی کی شادی میں شرکت کی۔ گاؤں میں ان کی آمد پر خاصی خوشی دیکھی گئی اور انتظامیہ نے سخت حفاظتی انتظامات کیے

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی منگل کے روز ہریانہ کے ضلع سونی پت کے گاؤں مدینہ پہنچے جہاں انہوں نے کسان سنجے ملک کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ تین سال قبل اسی گاؤں کے کھیت میں دھان کی روپائی کرنے اور ٹریکٹر چلانے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
اطلاعات کے مطابق راہل گاندھی صبح کے وقت سونی پت پہنچے اور وہاں سے گوہانہ کے گاؤں مدینہ گئے۔ انہوں نے تقریباً 20 منٹ تک کسان کے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارا اور نئی شادی شدہ جوڑی کو دعائیں دیں۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی ضلع انتظامیہ نے علاقے میں مناسب حفاظتی انتظامات کیے۔
گاؤں میں راہل گاندھی کی آمد پر خاصی گہما گہمی دیکھی گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق ایک عام کسان کے گھر شادی کی تقریب میں ان کی شرکت نے دیہاتیوں میں جوش و خروش پیدا کر دیا۔ گاؤں والوں نے ان کے استقبال کے لیے خصوصی تیاریاں کیں جبکہ کانگریس کے کئی مقامی رہنما بھی وہاں پہنچ گئے۔
ایک مقامی کانگریس کارکن کے مطابق راہل گاندھی تین سال قبل بھی گاؤں مدینہ آئے تھے جب انہوں نے کسان سنجے ملک کے کھیت میں دھان کی روپائی کی تھی اور ٹریکٹر بھی چلایا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کسان کے گھر فرش پر بیٹھ کر روٹی، ساگ اور چھاچھ جیسا روایتی دیسی کھانا بھی کھایا تھا۔ اس دورے کی تصاویر اس وقت سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی تھیں۔
اس دورے کے بعد سنجے ملک اور ان کا خاندان اچانک لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔ اس ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے کسانوں کے ساتھ طویل گفتگو کی تھی اور زراعت سے متعلق مسائل اور مشکلات پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ موجودہ دورے کی بات کریں تو راہل گاندھی نے اس موقع پر سنجے ملک کے خاندان سے ملاقات کی اور شادی کی تقریب میں شریک ہو کر نئی زندگی شروع کرنے والے جوڑے کو مبارک باد دی۔
اس دوران ہریانہ سے کانگریس کے کئی رہنما بھی وہاں موجود جن میں روہتک کے رکن پارلیمنٹ دیپیندر سنگھ ہڈا بھی شامل تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق راہل گاندھی کی یہ مختصر مگر غیر متوقع آمد گاؤں کے لوگوں کے لیے ایک یادگار لمحہ بن گئی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔