لوک سبھا میں اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک، گورو گوگوئی نے حکومت اور کارروائی کے طریقہ کار پر اٹھائے سوالات

لوک سبھا میں اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی گئی۔ کانگریس رکن گورو گوگوئی نے پارلیمانی کارروائی کی غیر جانبداری، راہل گاندھی کو بولنے کا موقع نہ ملنے اور حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: لوک سبھا میں اسپیکر اوم برلا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے کے بعد ایوان میں سیاسی گرما گرمی بڑھ گئی۔ بہار کے کشن گنج سے کانگریس کے رکن پارلیمان ڈاکٹر محمد جاوید نے یہ تحریک پیش کی، جس کے بعد اس پر بحث کا آغاز ہوا اور مختلف اراکین نے اپنی اپنی رائے پیش کی۔

تحریک پر بحث کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمان گورو گوگوئی نے ایوان کی کارروائی کے طریقہ کار اور اسپیکر کے کردار پر کئی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں پارلیمان وہ جگہ ہے جہاں ہر منتخب نمائندے کو اپنی بات رکھنے کا مساوی موقع ملنا چاہیے، لیکن موجودہ حالات میں ایسا نظر نہیں آ رہا۔

گوگوئی نے الزام لگایا کہ ایوان میں مائیک کا استعمال بھی ایک طرح کے ہتھیار کی طرح کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکمراں جماعت کے اراکین کو بولنے کے لیے آسانی سے موقع مل جاتا ہے جبکہ اپوزیشن کے اراکین کو اکثر اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ یہی معاملہ اس عدم اعتماد کی تحریک کی بنیادی وجہ ہے۔

بحث کے دوران انہوں نے کانگریس کے رکن پارلیمان راہل گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی ایوان میں اپنی بات مکمل طور پر رکھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ گوگوئی کے مطابق راہل گاندھی کو بار بار ٹوک کر روکا گیا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر انہیں بولنے سے روکنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔


انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تحریک کسی فرد کے خلاف ذاتی حملہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق اوم برلا کے ساتھ اراکین کے ذاتی تعلقات بہتر ہیں، لیکن پارلیمانی روایت اور آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے اپوزیشن خود کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور سمجھتی ہے۔ گوگوئی نے کہا کہ اپوزیشن نے یہ تحریک خوشی یا جوش کے ساتھ نہیں بلکہ افسوس کے ساتھ پیش کی ہے۔

اپنی تقریر کے دوران انہوں نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تجارتی سمجھوتے پر بھی سوال اٹھایا۔ گوگوئی نے حکومت سے پوچھا کہ اس سمجھوتے کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے اور ملک کو اس بارے میں پوری معلومات دی جانی چاہئیں۔

انہوں نے بحث کے دوران جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کہیں اس معاملے میں کوئی اور پہلو تو سامنے آنے باقی نہیں ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد ایوان میں کچھ دیر کے لیے ہنگامہ بھی دیکھنے کو ملا۔

عدم اعتماد کی تحریک پر جاری بحث کے دوران اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جبکہ ایوان کی کارروائی پر سب کی نظریں جمی رہیں۔