
غازی آباد میں پاسپورٹ جیسے حساس اور اہم سرکاری دستاویز میں بڑے پیمانے پر جعلسازی کا ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے جس نے پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کو بھی چونکا دیا ہے۔ اس معاملے میں ایک ہی پتے پر 22 پاسپورٹ جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ تمام درخواستوں میں ایک ہی موبائل نمبر استعمال کیا گیا۔ پولیس نے اس منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے ایک پوسٹ مین سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
Published: undefined
پاسپورٹ کے اجرا کے لیے عام طور پر مختلف سطحوں پر سخت جانچ پڑتال کی جاتی ہے جس میں مقامی پولیس اور خفیہ ایجنسیاں شامل ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس طرح کی جعلسازی کو انتہائی غیر معمولی اور سنگین مانا جا رہا ہے۔ غازی آباد میں سامنے آئے اس معاملے نے پورے نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے کیونکہ تمام رسمی مراحل مکمل ہونے کے باوجود جعلی درخواستیں منظور ہو گئیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس معاملے کا انکشاف گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت ہوا جب دہلی کے ریجنل پاسپورٹ آفیسر نے غازی آباد پولیس کو ایک تحریری شکایت ارسال کی۔ شکایت میں بتایا گیا کہ متعدد درخواستیں ایک ہی پتے اور ایک ہی موبائل نمبر کے ساتھ موصول ہو رہی ہیں اور ان پر پاسپورٹ جاری بھی کیے جا چکے ہیں۔ اس غیر معمولی مماثلت نے حکام کو شبہ میں مبتلا کیا جس کے بعد پولیس نے جانچ شروع کی۔
Published: undefined
ابتدائی تحقیقات کے دوران پولیس ٹیم جب ان پتوں پر پہنچی تو وہاں کوئی بھی ایسا شخص موجود نہیں تھا جن کے نام پر پاسپورٹ جاری کیے گئے تھے۔ مقامی لوگوں نے بھی ان ناموں سے ناواقفیت کا اظہار کیا۔ جانچ کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ تمام پتے فرضی تھے اور درخواست گزار کبھی وہاں مقیم نہیں رہے۔ اس مرحلے پر پولیس کو یقین ہو گیا کہ یہ ایک منظم جعلسازی ہے۔
تحقیقات کے دوران پولیس کی توجہ مقامی ڈاک خانے میں تعینات پوسٹ مین ارون کمار پر مرکوز ہوئی جو اس نیٹ ورک کی ایک اہم کڑی ثابت ہوا۔ پولیس کے مطابق ارون کمار نے اپنے عہدے کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے پاسپورٹ مقررہ پتوں پر پہنچانے کے بجائے براہ راست گروہ کے افراد کے حوالے کیے۔ اس طرح پاسپورٹ کی ترسیل کا آخری مرحلہ بھی جعلسازوں کے کنٹرول میں آ گیا۔
Published: undefined
پوچھ گچھ کے دوران ارون کمار نے انکشاف کیا کہ چند ماہ قبل پرکاش اور وویک نامی افراد نے اس سے رابطہ کیا تھا اور ہر پاسپورٹ کے بدلے دو ہزار روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔ لالچ میں آ کر وہ اس نیٹ ورک کا حصہ بن گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں ایک خاتون سمیت چھبیس افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جبکہ پانچ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دیگر کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined