اترپردیش میں 69 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا معاملہ پھر گرم، لکھنؤ میں مظاہرے کا اعلان

تحریک کی قیادت کر رہے دھننجے گپتا نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ حکومت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کوئی پہل نہیں کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کی طرف سے صرف تاریخیں دی جا رہی ہیں

<div class="paragraphs"><p>احتجاج کا منظر / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

اتر پردیش میں69 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا معاملہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔ ریزرو زمرے کے امیدوار اپنے مطالبات کے لیے آج لکھنؤ میں احتجاج کریں گے۔ امیدواروں کا الزام ہے کہ حکومت نے کوئی پہل نہیں کی جس کی وجہ سے معاملہ اتنا آگے چلا گیا۔ اس معاملے کی پہلی سماعت ستمبر 2024 میں سپریم کورٹ میں ہوئی تھی، اس کے بعد سے اس معاملے میں تاریخ پر تاریخ مل رہی ہے۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 4 فروری کو ہوگی لیکن اس سے پہلے آج ریزرو زمرے کے لوگ اپنا غصہ ظاہر کرنے کے لیے احتجاج کرنے والے ہیں۔

تحریک کی قیادت کر رہے دھننجے گپتا نے اس حوالے سے ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے کوئی پہل نہیں کر رہی ہے جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کی طرف سے صرف تاریخیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ 2 فروری سے احتجاج شروع کریں گے۔ تحریک کے آغاز میں مقرر تمام ضلعی کوآرڈینیٹروں سے بلاک سطح پر رابطہ کرکے آنے والے امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کی فہرست تیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔


اس صورتحال میں اس معاملے کو لے کر مظاہرین غصے سے بھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ او بی سی کمیشن اور لکھنؤ ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کے حق میں ہے۔ اس معاملے پر قومی پسماندہ طبقات کمیشن کی رپورٹ، وزیراعلیٰ کی طرف سے بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور لکھنؤ ہائی کورٹ کی ڈبل بنچ کا فیصلہ سبھی ہمارے حق میں ہیں لیکن ہمارے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے کیونکہ ہم  پسماندہ اور دلت طبقے سے آتے ہیں۔ ایک اور احتجاجی نے کہا کہ وہ پچھلے 6 سالوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ حکومت سے مطالبات کرتے ہیں لیکن ان کے مطالبات نہیں سن رہے ہیں۔ تمام امیدوار سماعت نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف میں ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔