قومی خبریں

ستیہ نکیتن حادثہ: نائب صدر، وزیر اعظم، کھڑگے سمیت رہنماؤں کا اظہارِ افسوس، اموات کی تعداد 3 ہوئی

دہلی کے ستیہ نکیتن میں 5 منزلہ عمارت گرنے سے اموات کی تعداد 3 ہو گئی، جبکہ 11 افراد کو ملبہ سے نکالا جا چکا ہے۔ وزیر اعظم، نائب صدر اور کھڑگے سمیت رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>دہلی کے ستیہ نکیتن میں وہ مقام جہاں عمارت منہدم ہوئی /&nbsp; ٍقومی آواز / وپن</p></div>

دہلی کے ستیہ نکیتن میں وہ مقام جہاں عمارت منہدم ہوئی /  ٍقومی آواز / وپن

 

نئی دہلی: دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں اتوار کو ایک کثیر منزلہ عمارت منہدم ہونے کے واقعے میں اموات کی تعداد بڑھ کر 3 ہو گئی ہے، جبکہ اب تک 11 افراد کو ملبہ سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔ حادثے کے بعد قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف)، دہلی فائر سروس، پولیس اور دیگر امدادی ٹیموں کا ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔ ملبہ میں مزید افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حادثے کا شکار عمارت دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب ستیہ نکیتن علاقے میں واقع تھی اور اسے طلبہ کے لیے پیئنگ گیسٹ (پی جی) کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق عمارت میں ایک بیسمنٹ اور اوپر پانچ منزلیں تھیں۔ واقعے کے وقت بیسمنٹ میں مرمت کا کام جاری تھا۔

پولیس کو دوپہر تقریباً 1:34 بجے عمارت منہدم ہونے کی اطلاع ملی، جس کے فوراً بعد پولیس، فائر بریگیڈ، کیٹ ایمبولینس اور دیگر ہنگامی خدمات موقع پر پہنچ گئیں۔ این ڈی آر ایف کی ٹیم نے بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ امدادی اہلکار بھاری مشینری، جدید کیمروں اور دیگر آلات کی مدد سے ملبہ کے اندر پھنسے افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔

ریسکیو ٹیموں کی جانب سے ملبہ میں پھنسے افراد تک آکسیجن پہنچانے کے لیے سلنڈر بھی اندر بھیجے گئے ہیں۔ آس پاس کی عمارتوں کو احتیاطی طور پر خالی کرا لیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر لوگوں سے جائے حادثہ سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے کے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس حادثے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا۔ انہوں نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام جائے حادثہ پر راحت اور بچاؤ کے کام میں مصروف ہیں اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے بتایا کہ انہوں نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا سے بات کی ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ خود جائے حادثہ پر امدادی کارروائی کی نگرانی کر رہی ہیں اور بچاؤ و راحت کے تمام ضروری اقدامات تیزی سے کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جائے حادثہ کا دورہ بھی کیا اور وہاں موجود افسران سے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے ملبہ میں پھنسے افراد کو جلد از جلد نکالنے کے لیے کارروائی میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ستیہ نکیتن حادثے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے ملبہ میں دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے پھنسے ہونے کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پھنسے ہوئے افراد کو بچانے اور زخمیوں کو بہتر سے بہتر علاج فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔

کھڑگے نے غیر محفوظ اور بھیڑ بھاڑ والے پی جی رہائشی مراکز کے مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق مناسب ہاسٹل کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو غیر محفوظ حالات میں پی جی میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جبکہ ہر طالب علم کی جان قیمتی ہے۔

راہل گاندھی نے بھی حادثے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملبہ میں کئی طلبہ کے پھنسے ہونے کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے این ایس یو آئی کو متاثرہ طلبہ اور ان کے اہل خانہ کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت دی اور امدادی ٹیموں سے اپیل کی کہ ہر ایک طالب علم تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

راہل گاندھی نے طلبہ کے رہائشی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مناسب ہاسٹل نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں طلبہ پی جی میں مشکل حالات میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق طلبہ مستقبل بنانے کے لیے دہلی آتے ہیں، اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے لیے نہیں۔

دہلی یونیورسٹی نے بھی ستیہ نکیتن میں عمارت گرنے کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی نے متاثرہ طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے ملبہ میں پھنسے تمام افراد کی محفوظ واپسی کی دعا کی اور اپنے طلبہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

دہلی پولیس کے مطابق عمارت تقریباً 40 سے 50 سال پرانی تھی اور اسے پی جی کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ پولیس نے عمارت کے مالک کی شناخت کرلی ہے اور اسے گرفتار کرنے کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی کارروائی بھی جاری ہے۔

حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل ہونے اور ملبہ پوری طرح ہٹائے جانے کے بعد ہی حادثے میں پھنسے افراد کی حتمی تعداد اور واقعے کی مکمل صورتحال واضح ہو سکے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔