سنبھل کے ایس پی کرشن بشنوئی / آئی اے این ایس
سنبھل: اتر پردیش کے سنبھل میں 24 نومبر 2024 کو شاہی جامع مسجد میں سروے کے دوران بھڑکے تشدد کے معاملے میں پولیس نے چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ ملزمان پر پولیس اور انتظامی افسران پر جان لیوا حملے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
سنبھل کے ایس پی کرشن بشنوئی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس معاملے میں اب تک 12 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں، جن میں سے سات سنبھل کوتوالی، چار نکھاسہ تھانے اور ایک زیرو ایف آئی آر مراد آباد میں درج ہوئی۔ چھ مقدمات میں پولیس نے چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
Published: undefined
پہلی دو ایف آئی آر میں سب انسپکٹر شاہ فیصل کی ذاتی بائیک اور سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کی کوشش کا الزام ہے، اس واقعہ میں سرکاری گاڑی جل گئی جبکہ سب انسپکٹر کی بائیک بچا لی گئی۔ سی سی ٹی وی کی مدد سے اس کیس میں 23 افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی۔
دوسرے مقدمے میں ایک ملزم نے فائرنگ کی تھی، اس کیس میں 25 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی، جبکہ بیلسٹک رپورٹ کا انتظار ہے۔ رپورٹ کے بعد ضمنی چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔
Published: undefined
ایک اور کیس میں 21 افراد کو موقع سے گرفتار کیا گیا تھا، جس میں نامزد ملزمان سمیت 53 افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی۔ چوتھے مقدمے میں ایس ڈی ایم پر پتھراؤ ہوا تھا، جس میں 37 افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا ہے۔ اسی طرح، کوتوالی کے ایک معاملے میں سی او کو گولی لگی تھی، اس کیس میں 38 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی۔
Published: undefined
جامع مسجد کے قریب اسلحہ لوٹنے کے معاملے میں 39 افراد کو جیل بھیجا گیا۔ ایس پی کرشن بشنوئی نے بتایا کہ ابتداء میں 36 افراد نامزد تھے، بعد میں 123 مزید نام سامنے آئے، جس سے کل تعداد 159 ہو گئی۔ ان میں سے 80 افراد گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ 79 کی گرفتاری باقی ہے۔ پولیس نے ملزمان کی تصاویر والے پوسٹر بھی جاری کیے ہیں۔
ایس پی نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے پاکستان اور امریکہ میں تیار شدہ غیر قانونی اسلحہ اور کارتوس برآمد کیے گئے تھے۔ پولیس غیر جانبدارانہ تحقیقات کر رہی ہے اور بے گناہوں کو بری بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی یا تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined