قومی خبریں

سنبھل: سرکاری زمین پر موجود عید گاہ اور امام باڑہ پر چلا بلڈوزر، کارروائی کے دوران پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل

سنبھل کی سب ڈویژنل مجسٹریٹ ندھی پٹیل نے بتایا کہ محکمہ ریونیو کے ذریعہ چلائی گئی تجاوزات ہٹاؤ مہم کے دوران لا اینڈ آرڈر بنائے رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>(ویڈیو گریب)</p></div>

(ویڈیو گریب)

 

اترپردیش کے سنبھل ضلع میں انتظامیہ نے تجاوزات کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بچھولی گاؤں میں جمعرات (16 اپریل) کو سرکاری زمین پر موجود عید گاہ اور امام باڑہ کو منہدم کر دیا ہے۔ اس تعلق سے ایک سینئر افسر نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کارروائی محکمہ ریونیو کے احکامات کے تحت کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے متعلقہ زمین سرکاری ریکارڈ میں درج تھی اور اس پر غیر قانونی طریقے سے مذہبی ڈھانچے کھڑے کیے گئے تھے۔

Published: undefined

سنبھل کی سب ڈویژنل مجسٹریٹ ندھی پٹیل نے بتایا کہ محکمہ ریونیو کے ذریعہ چلائی گئی تجاوزات ہٹاؤ مہم کے دوران لا اینڈ آرڈر بنائے رکھنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’گاٹا نمبر 1240 اور 1242‘ میں واقع 2 مختلف پلاٹوں پر امام باڑہ اور عید گاہ کی تعمیر غیر قانونی طور سے کی گئی تھی۔ اس تعلق سے شکایت ملنے کے بعد معاملہ تحصیلدار کی عدالت میں پہنچا، جہاں سماعت کے بعد بے دخلی کے احکامات جاری کیے گئے۔

Published: undefined

ندھی پٹیل نے واضح کیا کہ ریونیو اور پولیس ٹیموں نے تحصیلدار عدالت کے احکامات پر مکمل طور سے عمل کرتے ہوئے تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کو انجام دیا۔ اس پورے عمل کے دوران انتظامیہ انتہائی چوکس رہی اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ افسران کے مطابق کارروائی پرامن طریقے سے مکمل ہو گئی اور لا اینڈ آرڈر مکمل طور سے کنٹرول میں رہا۔

Published: undefined

غور طلب ہے کہ ضلع سنبھل گزشتہ چند مہینوں سے تجاوزات، زمین کے استعمال اور مذہبی ڈھانچوں سے متعلق تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں رہا ہے۔ خاص طور پر کوٹ گروی علاقے میں واقع شاہی جامع مسجد کے عدالتی حکم پر نومبر 2024 میں کیے گئے سروے کے دوران ہونے والے پُر تشدد واقعات کے بعد سے انتظامیہ نے پورے ضلع میں قانونی کارروائیوں کے سلسلے کو مزید تیز کر دیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined