اپوزیشن پارٹیاں راجیہ سبھا میں ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا کریں گی بائیکاٹ، جئے رام رمیش نے پیش کیں 3 وجوہات

صدر جمہوریہ نے گزشتہ دنوں ہری ونش کو تیسری بار ایوانِ بالا کے لیے نامزد کیا ہے۔ ’ہری ونش 3.0‘ کا مطلب ایوان بالا کے سابق ڈپٹی چیئرمین ہری ونش کی تیسری مدت کار ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ہری ونش، تصویر یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن پارٹیاں راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین انتخاب کا بائیکاٹ کرنے والی ہیں۔ اس سلسلے میں آج کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے جانکاری دی۔ انھوں نے جمعرات کے روز کہا کہ اپوزیشن راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین عہدہ کے انتخاب کا بائیکاٹ کرے گا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے یہ فیصلہ لوک سبھا میں گزشتہ 7 سالوں سے ڈپٹی اسپیکر کی تقرری نہیں کیے جانے کی مخالفت میں لیا گیا ہے۔

جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ اس مسئلہ پر حکومت کی طرف سے کوئی بامعنی صلاح و مشورہ بھی نہیں لیا گیا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ہری ونش 3.0 اپوزیشن کے مشوروں کے تئیں زیادہ حساس ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ صدر جمہوریہ نے گزشتہ دنوں ہری ونش کو تیسری بار ایوانِ بالا کے لیے نامزد کیا ہے۔ ’ہری ونش 3.0‘ کا مطلب ایوان بالا کے سابق ڈپٹی چیئرمین ہری ونش کی تیسری مدت کار ہے۔ وہ گزشتہ 2 بار ڈپٹی چیئرمین رہ چکے ہیں اور حال میں ان کی مدت کار ایوانِ بالا میں ختم ہوئی ہے۔


جئے رام رمیش نے راجیہ سبھا ڈپٹی چیئرمین انتخاب کا اپوزیشن کے ذریعہ بائیکاٹ کیے جانے کی 3 وجوہات سامنے رکھی ہیں، جو اس طرح ہیں:

  1. مودی حکومت نے 7 سالوں سے لوک سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کی تقرری نہیں کی ہے۔ قبل میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔

  2. راجیہ سبھا میں ڈپٹی اسپیکر کے ہم منصب ڈپٹی چیئرمین ہوتا ہے۔ ہری ونش کی دوسری مدت کار 9 اپریل کو ختم ہو گئی۔ اس کے ایک دن بعد انھیں صدر جمہوریہ کی طرف سے راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا، اور اب وہ تیسری مدت کار کے لیے این ڈی اے کے امیدوار بنائے گئے ہیں۔ اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صدر جمہوریہ کے ذریعہ نامزد کسی شخص کو راجیہ سبھا کے ڈپٹی اسپیکر عہدہ کے لیے پیش کیا گیا ہو۔

  3. یہ سب اپوزیشن سے بغیر کسی بامعنی صلاح و مشورہ کے کیا جا رہا ہے۔

جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’ان 3 وجوہات کی بنیاد پر اور مخالفت کے طور پر اپوزیشن نے 17 اپریل کو ہونے والے ڈپٹی چیئرمین انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ بہرحال، راجیہ سبھا میں ڈپٹی چیئرمین عہدہ کے لیے جمعہ کو انتخاب ہونا ہے اور برسراقتدار این ڈی اے کی یہ کوشش ہو سکتی ہے کہ ہری ونش اس عہدہ پر از سر نو تقرری پائیں۔ ہری ونش کی مدت کار 9 اپریل کو ختم ہونے کے بعد سے ہی یہ عہدہ خالی ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے راجیہ سبھا کے لیے ہری ونش کو نامزد کیا ہے اور انھوں نے 10 اپریل کو حلف بھی لے لیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔