بی بی سی کے 2000 ملازمین پر بے روزگاری کی لٹکی تلوار، 15 سالوں میں سب سے بڑی چھنٹنی کی تیاری

ملازمین سے میٹنگ کے بعد بی بی سی کے عبوری ڈائریکٹر جنرل ٹالفن ڈیوس نے بتایا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ چھنٹنی سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے گی، لیکن ہم چیلنجوں کے بارے میں کھل کر باتیں کرنا چاہتے تھے۔‘

تصویر بشکریہ بی بی سی
i
user

قومی آواز بیورو

برٹش براڈکاسٹنگ کمپنی یعنی بی بی سی نے بتایا ہے کہ آئندہ 2 سالوں میں ان کا منصوبہ 2000 ملازمت (تقریباً 10 فیصد ملازمین) میں کٹوتی کرنا ہے۔ 15 اپریل کو ملازمین کے ساتھ ہوئی ایک میٹنگ میں کمپنی نے یہ جانکاری دی، جسے گزشتہ 15 سالوں میں کمپنی کی سب سے بڑی چھٹنی مانی جا رہی ہے۔ بی بی سی کے عبوری ڈائریکٹر جنرل روڈری ٹالفن ڈیوس نے بتایا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ اس سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے گی، لیکن ہم چیلنجوں کے بارے میں کھل کر باتیں کرنا چاہتے تھے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ملازمین کی یہ چھنٹنی مہنگائی، لائسنس فیس سے ہونے والی آمدنی پر دباؤ، کمزور کمرشل ریونیو اور بڑے پیمانے پر عالمی اقتصادی بحران کے درمیان کی جائے گی۔

واضح رہے کہ بی بی سی کا یہ قدم 500 ملین پاؤنڈ (677 ملین ڈالر) بچانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو اس کے سالانہ بجٹ کا تقریباً 10 فیصد ہے۔ کمپنی پہلے ہی وارننگ دے چکی ہے کہ اسے کافی مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اب وہ 2029 تک اپنے بجٹ کا تقریباً 10واں حصہ کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ملازمت میں زیادہ تر کٹوتی یکم اپریل 2027 سے شروع ہونے کا امکان ہے۔


بی بی سی کی جانب سے اخراجات میں کٹوتی کا یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب آئندہ ماہ گوگل کے سابق ایگزیگٹو میٹ برٹن ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔ برٹن ٹِم ڈیوی کی جگہ لیں گے۔ دوسری جانب بی بی سی پر ڈونالڈ ٹرمپ کا 10 ارب ڈالر کا مقدمہ بھی ہے۔ دراصل ٹرمپ کا الزام ہے کہ بی بی سی کی ڈاکیومنٹری ’ٹرمپ اے سیکنڈ چانس‘ میں ان کے 6 جنوری 2021 کی ایک تقریر کو اس طرح سے ایڈٹ کیا گیا ہے، جسے دیکھ کر ایسا لگے گا کہ ٹرمپ اپنے حامیوں کو تشدد کے لیے بھڑکا رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ بی بی سی برطانیہ کے سب سے مشہور اور سب سے زیادہ زیر بحث اداروں میں سے ایک ہے۔ اسے سالانہ ٹیلی ویژن لائسنس فیس سے فنڈ ملتا ہے۔ حال ہی میں لائیو ٹیلی ویژن یا بی بی سی کے پروگرام دیکھنے والے خاندانوں کے لیے یہ فیس بڑھ کر 180 پاؤنڈ (224 ڈالر) ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے گزشتہ ایک سال میں تقریباً 300000 گھروں نے لائسنس فیس دینا بند کر دیا ہے۔ اس سے بی بی سی کے ریونیو پر اثر پڑا ہے۔ اس کے علاوہ نیٹ فلکس اور ڈِزنی جیسے اسٹریمنگ پلیٹ فارمس کی شہرت کی وجہ سے ٹی وی دیکھنے والوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ ساتھ ہی کنٹینٹ بنانے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ بی بی سی اپنے یہاں ہونے والی لازمی چھنٹنی سے بچنے کے لیے جلد ہی ’رضاکارانہ سبکدوشی‘ کا ایک منصوبہ شروع کر سکتا ہے۔