قومی خبریں

ایس آئی آر: راجیہ سبھا کے رکن رام گوپال یادو نے ووٹروں کے بڑے پیمانے پر کٹنے کا خدشہ ظاہر کیا

رام گوپال یادو نے ایس آئی آر عمل پر سخت سوال اٹھائے اور کہا کہ بی ایل اوز نے لاکھوں ووٹروں کو مردہ، غائب یا منتقل بتایا ہے جس سے تقریباً 50 فیصد ووٹ کٹنے کا خطرہ ہے

رام گوپال یادو، تصویر آئی اے این ایس
رام گوپال یادو، تصویر آئی اے این ایس 

نئی دہلی: سماج وادی پارٹی کے سینئر راجیہ سبھا رکن رام گوپال یادو نے 12 ریاستوں میں جاری خصوصی گہری نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن خود اس پورے عمل کو لے کر کشمکش کا شکار ہے، جبکہ بی ایل اوز نے زمینی سطح پر ایسی غلطیاں کی ہیں جن سے بڑے پیمانے پر ووٹ کٹنے کا اندیشہ ہے۔

Published: undefined

آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے رام گوپال یادو نے کہا کہ بی ایل اوز نے لاکھوں ووٹروں کو مردہ، غائب یا مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل کے طور پر درج کر دیا ہے، حالانکہ ان میں سے کئی لوگ موجود اور زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل نے انتخابی فہرست کی شفافیت کو مشکوک بنا دیا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ فرخ آباد کے ٹونڈلہ اسمبلی حلقے میں 3,82,160 ووٹر درج ہیں لیکن ایس آئی آر کے دوران 3,82,159 فارم تقسیم دکھائے گئے۔ حیرت انگیز طور پر اسی عمل میں 10,703 ووٹروں کو مردہ، 11,964 کو غائب اور 29,364 کو مستقل طور پر منتقل قرار دے دیا گیا۔ ان کے مطابق جب اتنی بڑی تعداد میں ووٹر فہرست سے باہر مان لیے گئے تو پھر فارم تقسیم سو فیصد کیسے دکھایا گیا؟

Published: undefined

رام گوپال یادو نے مزید کہا کہ مسئلے کا ایک اور پہلو بھی خطرناک ہے۔ الیکشن کمیشن کے اصولوں کے مطابق 2003 میں رجسٹرڈ ووٹر—جو آج بھی فہرست میں شامل ہے—کو دوبارہ اندراج کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں دینا ہوتا، صرف ایک فارم بھرنے سے وہ ووٹر بن جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ’’ایک طرف کمیشن کہتا ہے کہ دستاویز کی ضرورت نہیں، دوسری طرف لاکھوں لوگوں کو کیٹیگری ’سی‘ میں ڈال کر نوٹس بھیج دیا جاتا ہے۔‘‘

انہوں نے وضاحت کی کہ اگر نوٹس ووٹر تک نہ پہنچے تو وہ جواب نہیں دے پائے گا اور اس کا ووٹ بلاوجہ کٹ جائے گا۔ ایس ڈی ایم کی طرف سے صرف یہ کہہ دینا کافی ہوگا کہ نوٹس جاری کر دیا گیا تھا، چاہے وہ متعلقہ شخص تک پہنچا ہو یا نہیں۔ رام گوپال یادو نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے موجودہ طریقۂ کار سے کم از کم 50 فیصد ووٹ کٹنے کا خطرہ ہے، اور نہ حکومت اور نہ ہی الیکشن کمیشن اس کے مضمرات کو سنجیدگی سے سمجھ پا رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined