
اتر پردیش میں راجیہ سبھا سیٹ کے لیے ہوئی ووٹنگ میں کراس ووٹنگ نے معاملہ بہت دلچسپ بنا دیا تھا۔ اس ریاست سے بی جے پی کی 8 سیٹیں طے تھیں لیکن 9ویں سیٹ کے لیے بی جے پی نے اپنا امیدوار کھڑا کر کے بی ایس پی کی پریشانیاں بڑھا دی تھیں۔ کراس ووٹنگ کی وجہ سے یہاں بی جے پی کو فائدہ پہنچا اور اس نے 10 میں سے 9 راجیہ سبھا سیٹوں پر قبضہ کر لیا۔ ایک سیٹ پر سماجوادی پارٹی کی امیدوار جیہ بچن کو کامیابی ملی۔
کرناٹک کی 4 راجیہ سبھا سیٹوں کا نتیجہ آ گیا ہے۔ اس ریاست سے کانگریس کے تین امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے جب کہ بی جے پی کے ایک امیدوار فتحیاب ہوئے ہیں۔
جھارکھنڈ میں راجیہ سبھا کی دونوں سیٹوں کے نتائج آ چکے ہیں۔ یہاں سے کانگریس اور بی جے پی دونوں کے ہی ایک ایک امیدوار کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کانگریس سے دھیرج ساہو کامیاب ہوئے ہیں جب کہ بی جے پی کے سمیر اراؤں منتخب ہوئے ہیں۔ ووٹوں کی گنتی شروع ہونے سے پہلے انتخابی کمیشن نے جھارکھنڈ وِکاس مورچہ کے ممبر اسمبلی پرکاش رام اور سی پی آئی ایم کے ممبر اسمبلی راج کمار یادو کے ووٹوں پر کیے گئے اعتراض کو ختم کیا۔
اتر پردیش کی 10 راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ ووٹنگ کے دوران کراس ووٹنگ کے الزامات سے متعلق انتخابی کمیشن نے بی جے پی اور بی ایس پی کے 1-1 ووٹوں کو ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔ اس طرح الیکشن آبزرور نے دونوں بیلٹ پیپر کو گنتی میں شامل نہیں کیا۔
الیکشن کمیشن کی اجازت کے بعد اتر پردیش میں راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے ووٹوں کی گنتی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہاں کی دس سیٹوں کے نتائج جلد برآمد ہوں گے۔
مغربی بنگال سے پانچوں راجیہ سبھا سیٹوں کے نتیجے برآمد ہو چکے ہیں۔ اس ریاست سے کانگریس کے ابھشیک منو سنگھوی نے فتحیابی حاصل کی ہے جب کہ بقیہ چار سیٹوں پر ترنمول کانگریس کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ ترنمول کانگریس کے کامیاب امیدواروں میں شبھاشیش چکرورتی، ابیر بشواس، شانتنو سین اور ندیم الحق شامل ہیں۔
آندھرا پردیش سے تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) لیڈر سی ایم رمیش راجیہ سبھا کے لیے بلامقابلہ منتخب۔
بی ایس پی اور ایس پی کے ذریعہ کراس ووٹنگ پر اعتراض ظاہر کیے جانے کے بعد اتر پردیش میں ووٹوں کی گنتی ابھی تک شروع نہیں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں بی جے پی نے ایمرجنسی میٹنگ بھی طلب کر لی ہے۔
چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی امیدوار سروج پانڈے راجیہ سبھا انتخاب میں فتحیاب ہوئیں۔ فتحیابی کے بعد انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امت شاہ کا شکریہ ادا کیا۔
سماجوادی پارٹی کے ممبر اسمبلی نتن اگروال اور بہوجن سماج پارٹی کے ممبر اسمبلی انل سنگھ نے مقرر کردہ ایجنٹ کو اپنا ووٹ نہیں دکھایا جس کی شکایت بی ایس پی نے انتخابی کمیشن سے کی۔ اس شکایت کے بعد ہی کمیشن نے ووٹوں کی گنتی روکنے کا فیصلہ کیا۔
بیلٹ پیپر پر اعتراض ظاہر کیے جانے کے بعد انتخابی کمیشن نے فی الحال اتر پردیش میں ووٹوں کی گنتی روک دی ہے۔ انتخابی کمیشن کے حکم کے بعد ہی اب دوبارہ گنتی شروع ہوگی۔
اتر پردیش کی 10 راجیہ سبھا سیٹوں کے لئے ووٹ شماری کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ کچھ ہی دیر میں نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔ 10 ویں سیٹ کے لئے بی جے کے امت اگروال اور بی ایس پی کے بھیم راؤ امبیڈکر کے بیچ سخت مقابلہ ہے۔ کراس ووٹنگ کی وجہ سے نتائج دلچسپ ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
ملک کی 26 راجیہ سبھا سیٹوں کے لئے ووٹنگ ختم ہو گئی ہے۔ اتر پردیش کی 10، مغربی بنگال کی 5، کرناٹک کی 4، تلنگانہ کی 3، جھارکھنڈ کی 2، چھتیس گڑھ اور کیرالہ کی 1-1 سیٹ کے لئے ووٹنگ کی گئی۔ شام 5 بجے ووٹ شماری کا عمل شروع ہوگا، اس کے کچھ گھنٹوں کے بعد نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔
چھتیس گڑھ میں راجیہ سبھا کے انتخاب کے حوالہ سے کانگریس نے انتخابی کمیشن کو تحریری شکایت دے کر بی جے پی کے 4 ووٹوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا امیدوار لیکھ راج ساہو نے شکایت میں کہا ہے کہ بی جے پی کے ارکان اسمبلی بدری دھر دیوان، پریم پرکاش پانڈے، رام شیلا ساہو اور اشوک ساہو نے اپنا بیٹ پیپر پارٹی کے ووٹنگ ایجنٹ کو نہیں دکھایا جوکہ انتخابی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
واضح رہے کہ اگر کوئی ووٹر پارٹی کے آفیشل ایجنٹ کو اپنا بیلٹ پیپر نہیں دکھاتا تو اس کا ووٹ منسوخ ہو سکتا ہے۔
راجیہ سبھا انتخاب لئے اتر پردیش میں 4 بجے سے قبل ووٹنگ پوری ہو گئی ہے۔ 400 ارکان اسمبلی نے ووٹ ڈال دیا ہے۔ 403 ارکان اسمبلی میں سے 1 سماجوادی پارٹی اور 1 بی ایس پی کا رکن اسمبلی جیل میں ہے۔ وہیں ایک رکن اسمبلی کی موت ہو چکی ہے۔
شام کو 5 بجے ووٹ شماری کا عمل شروع ہوگا۔
راجیہ سبھا انتخاب کے لئے ووٹ ڈالنے کے بعد آزاد امیدوار راجا بھیا نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کی۔ راجا بھیا نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اخلاقیات کی بنیاد پر ملاقات کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اسی کو ووٹ دیا ہے جس سے وعدہ کیا تھا۔
سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن اسمبلی نتن اگروال نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ وہ ریاست کے وزیر قانون برجیش پاٹھک کے ساتھ ووٹ ڈالنے پہنچے تھے۔ نتن اگروال کے والد نریش اگروال حال ہی میں ایس پی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے بی ایس پی کے رکن اسمبلی نے بی جے پی امیدوار کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
چھتیس گڑھ سے راجیہ سبھا کی ایک سیٹ کے لئے پولنگ جاری ہے۔ بی جے پی اور کانگریس امیدواروں کے مابین اس سیٹ کیلئے براہ راست مقابلہ ہے۔
ریاست میں جیت کے لئے 46 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ اسمبلی میں اعداد وشمار کے حساب سے بی جے پی کے امیدوار کی جیت طے ہے۔
بی جے پی نے پارٹی کی قومی جنرل سکریٹری سروج پانڈے اور کانگریس نے سابق رکن اسمبلی لیکھ رام ساہو کو امیدوار بنایا ہے۔ بی جے پی کے پاس 49 اراکین اسمبلی ہیں جبکہ ایک آزاد امیدوار ومل چوپڑا نے بھی بی جے پی کو ووٹ دینے کا اعلان کررکھا ہے۔ کانگریس کے پاس 38 اراکین اسمبلی ہیں۔ غیرمتعلقہ رکن امت جوگی نے کانگریس کو ووٹ دینے کا اعلان کررکھا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی ) کے ایک واحد رکن نے بھی کانگریس کو ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
اتر پردیش میں 9 سیٹوں پر بلا مقابلہ انتخاب طے ہے جبکہ دسویں سیٹ پر بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے امیدوار بھیم راو امبیڈکر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نویں امیدوار انل اگروال کے مابین سخت مقابلہ ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ ارو ن جیٹلی سمیت بی جے پی کے 8 اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی واحد امیدوار جیا بچن کا انتخاب یقینی ہے۔
بی ایس پی رکن اسمبلی مختار انصاری اور ایس پی کے نتن اگروال کی وجہ سے بی ایس پی کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ انصاری کو الہ آباد ہائی کورٹ نے جیل سے جاکر ووٹ ڈالنے کی اجازت دی ہے جبکہ اگروال کے والد نریش اگروال بی جے پی میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس لئے سمجھا جارہا ہے کہ نتن اگروال بی جے پی کے حق میں ووٹ دیں گے۔
ذرائع کے مطابق بی ایس پی کا ایک رکن اسمبلی کل شام بی جے پی کے خیمہ میں دیکھا گیا تھا۔ دریں اثنا نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ نے دعوی کیا کہ بی جے پی کے تمام امیدوار کامیاب ہوں گے اور اپوزیشن کو سخت جھٹکا لگے گا۔
(یو این آئی)
ادھر سماجوادی پارٹی کے رہنما رام گوپال یادو نے دعوی کیا ہے کہ (ان کی پارٹی میں) کراس ووٹنگ جیسی کوئی بات نہیں ہے، ہاں بی جے پی ارکان اسمبلی ضرور ان کے حق میں کراس ووٹنگ کریں گے۔
بی ایس پی کے رکن اسمبلی انل سنگھ نے بی جے پی کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔
ملک کی 16 ریاستوں سے آنے والے 58 راجیہ سبھا کے ارکان کی مدت اپریل-مئی میں ختم ہو رہی ہے۔ انتخابات کے لئے انتخابی عمل کے دوران اب تک 10 ریاستوں سے 33 ارکان بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔ بقیہ 6 ریاستوں کی 25 سیٹوں اور کیرالہ کی ایک سیٹ پر ضمنی انتخاب کے لئے آج پولنگ ہوگا۔ کل 25 سیٹوں میں اتر پردیش کی 10 سیٹیں بھی شامل ہیں جن پر ملک بھر کی نظر لگی ہوئی ہے۔
اتر پردیش سے راجیہ سبھا کی 10 سیٹوں کے لئے ووٹنگ اسمبلی کے تلک ہال میں ہوگی۔ آج شام کو ہی ووٹوں کی گنتی کی جائے گی اور نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اتر پردیش سے 10 نشستوں کے لئے 11 امیدوار میدان میں ہیں۔ بی جے پی نے 9 اور ایس پی-بی ایس پی نے ایک ایک امیدوار اتارا ہے۔ یوں تو اتر پردیش اسمبلی میں کل 403 ارکان اسمبلی ہیں لیکن ان میں سے 400 ممبران اسمبلی ہی ووٹ ڈال سکیں گے۔ مختار انصاری اور ہری اوم یادو جیل میں ہیں اس لئے وہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے جبکہ بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کا انتقال ہو چکا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 23 Mar 2018, 8:41 AM IST