قومی خبریں

راجستھان: لاکھوں میں فرضی ڈگری خرید کر ڈاکٹر بننے کے لیے ’شارٹ کٹ‘ راہ اختیار کرنے والے مزید 3 ڈاکٹر گرفتار

ایس او جی کے مطابق تحقیقات کے دوران بیرون ملک سے ایم بی بی ایس کرنے والے 100 سے زائد ایسے افراد کی شناخت کی جا چکی ہے جنہوں نے فرضی سرٹیفکیٹس کے ذریعے طبی شعبے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

ڈاکٹر، تصویر آئی اے این ایس
ڈاکٹر، تصویر آئی اے این ایس 

راجستھان میں فرضی ایف ایم جی ای سرٹیفکیٹس کے ذریعہ ڈاکٹر بنانے والے نیٹورک کا دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے اس ہائی پروفائل معاملے میں مزید 3 ڈاکٹروں کو گرفتار کیا ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ بیرون ملک سے ایم بی بی ایس کرنے والے امیدواروں کو کروڑوں روپے کے اس نیٹورک کے ذریعہ فرضی ایف ایم جی ای سرٹیفکیٹ فراہم کرائے جا رہے تھے، جس سے وہ راجستھان میڈیکل سائنس (آر ایم سی) میں رجسٹریشن کروا کر انٹرنشپ اور میڈیکل پریکٹس کر سکیں۔ اس سے قبل مدھیہ پردیش میں بھی 9 ڈاکٹر فرضی پائے گئے تھے۔

Published: undefined

ایس او جی کے مطابق گرفتار ملزمان میں جے پور کا رہائشی دیپک یادو، ڈیگ کا رہائشی راجو گوجر اور الور کا رہائشی نریش گوجر شامل ہے۔ ان تینوں نے قازقستان سے ایم بی بی ایس کی پڑھائی کی تھی، لیکن ہندوستان میں ڈاکٹر کے طور پر رجسٹریشن کے لیے لازمی ایف ایم جی ای امتحان پاس نہیں کر سکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے مبینہ دلالوں اور ماسٹر مائنڈ کے ذریعے لاکھوں روپے خرچ کر کے فرضی سرٹیفکیٹس بنوائے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیپک یادو نے تقریباً 24 لاکھ روپے، راجو گوجر نے 27 لاکھ روپے اور نریش گوجر نے 23 لاکھ روپے دے کر فرضی ایف ایم جی ای سرٹیفکیٹس حاصل کیے۔ ان سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر سرکاری میڈیکل کالجوں میں انٹرنشپ بھی کی گئی۔

Published: undefined

ایس او جی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وشال بنسل کے مطابق تحقیقات کے دوران بیرون ملک سے ایم بی بی ایس کرنے والے 100 سے زائد ایسے افراد کی شناخت کی جا چکی ہے جنہوں نے فرضی سرٹیفکیٹس کے ذریعے طبی شعبے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس معاملے میں اس سے قبل بھی 17 ڈاکٹروں، راجستھان میڈیکل کونسل کے اس وقت کے رجسٹرار ڈاکٹر راجیش شرما، یو ڈی سی اکھلیش ماتھر، ایل ڈی سی فرحان حسن، مرکزی ملزم بھانارام مالی اور ایک دلال کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مرکزی ملزم بھانارام مالی ہر امیدوار سے 20 سے 30 لاکھ روپے لے کر فرضی سرٹیفکیٹ تیار کرواتا تھا اور رجسٹریشن کا عمل پورا کرواتا تھا۔

Published: undefined

واضح رہے کہ ہندوستان میں بیرون ملک سے ایم بی بی ایس کرنے والے طلبہ کو میڈیکل پریکٹس شروع کرنے سے پہلے نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشنز کے ذریعے منعقدہ ایف ایم جی ای امتحان پاس کرنا لازمی ہوتا ہے۔ یہ امتحان ڈاکٹر کی قابلیت اور مہارت کی جانچ کے لیے ہوتا ہے۔ ایس او جی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کچھ امیدواروں نے امتحان پاس کیے بغیر ہی فرضی ایف ایم جی ای سرٹیفکیٹس بنوا کر راجستھان میڈیکل کونسل میں رجسٹریشن حاصل کر لی اور میڈیکل کالجوں میں انٹرنشپ تک کر لی۔

Published: undefined

اس پورے انکشاف نے صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جن لوگوں نے لازمی اہلیتی امتحان پاس نہیں کیا، وہ فرضی دستاویزات کی بنیاد پر ڈاکٹر بن کر مریضوں کا علاج کرنے کی پوزیشن میں پہنچ گئے۔ ایسے میں یہ معاملہ محض دستاویزی دھوکہ دہی نہیں، بلکہ عام لوگوں کی زندگی اور صحت سے جڑا سنگین جرم مانا جا رہا ہے۔ ایس او جی کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ جاری ہے اور نیٹورک سے جڑے دیگر افراد کے کردار کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ نہ صرف راجستھان بلکہ مدھیہ پردیش میں بھی نیشنل ہیلتھ مشن یعنی این ایچ ایم  کی ڈاکٹروں کی بھرتی میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ 81 ڈاکٹروں کی بھرتی کے عمل کی تحقیقات میں 9 امیدواروں کے دستاویزات فرضی پائے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد این ایچ ایم نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔ اب یہ پتہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ کب سے صحت کی خدمات سے وابستہ تھے اور ان کے ذریعے کیے گئے علاج سے کسی مریض کو نقصان تو نہیں پہنچا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined