ڈاکٹر نے 8 ہزار روپے میں جوڑی ہڈی، باقی پیسے نہیں ملے تو جبراً دوبارہ توڑ دی! سی ایم او نے دیا جانچ کا حکم
خاتون جب بیٹی کو لے کر اسپتال پہنچی تو آپریشن کرنے والے ڈاکٹر نے ان کی بیٹی کا گھٹنا جبراً موڑ دیا۔ معصوم درد سے چلا پڑی اور پیر سے ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی، لیکن ڈاکٹروں نے اسے وہاں سے بھگا دیا۔

مغربی اتر پردیش کے مظفر نگر میں واقع ضلع کلکٹریٹ پر بے بس ماں ریشما ذہنی طور سے معذور اپنی 14 سالہ بیٹی کے لیے انصاف کی فریاد لے کر پہنچی۔ اس متاثرہ بیوہ نے ضلع کے محکمہ صحت پر علاج کے نام پر ناجائز وصولی اور بڑی لا پرواہی برتنے کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ خاتون کا الزام ہے کہ سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر نے ان کی بیٹی کے علاج کے لیے نہ صرف پیسوں کی مانگ کی بلکہ غلط طریقے سے علاج کر کے ان کی معصوم بیٹی کے پیر کو بھی بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مریضوں کے علاج میں ہو رہی ہے لاپرواہی: اکھلیش یادو
متاثرہ بیوہ ریشما کے مطابق تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے ضلع اسپتال میں ان کی بیٹی کے داہنے پیر کی ہڈی کا آپریشن ہوا تھا۔ اس کے لیے اسپتال کے ملازمین نے ان سے 25 ہزار روپئے مانگے تھے۔ خاتون نے جب خود کو بیوہ بتاتے ہوئے مجبوری کا اظہار کیا تو انہوں نے علاج سے منع کر دیا۔ اس کے بعد خاتون نے ضلع مجسٹریٹ کے دربار میں درخواست دی تو انہوں نے سی ایم او کو مفت علاج کرنے کے احکامات دیئے۔ اس کے باوجود اسپتال کے اہلکاروں نے 8 ہزار روپئے لے لیے اور کہا کہ باقی پیسے بعد میں دینے ہوں گے۔
ڈاکٹر نے خاتون کو کچھ دن بعد چیک اپ کے لیے آنے کو کہا تھا تاکہ گھٹنا مُڑ سکے۔ جب خاتون بیٹی کو لے کر پہنچی تو آپریشن کرنے والے ڈاکٹر چترویدی نے ان کی بیٹی کا گھٹنا جبراً موڑ دیا۔ معصوم درد سے چلا پڑی اور پیر سے ہڈی ٹوٹنے کی آواز آئی، لیکن ڈاکٹروں نے اسے وہاں سے بھگا دیا۔ بعد میں جب پیر کا ایکسرا کرایا گیا تو اس میں ہڈی ٹوٹی ہوئی آئی۔ پریشان ماں نے بڑے ڈاکٹروں سے شکایت کی مگر کسی نے اس کی نہیں سنی۔
اس پورے معاملے کو لے کر مظفر نگر کے چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) سنیل تیوتیا کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ سی ایم او کا کہنا ہے کہ دوسرے فریق کی بات سنے بغیر ابھی اس معاملے میں کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگی۔ حالانکہ انہوں نے یقین دلایا کہ اس پورے معاملے کی گہرائی سے جانچ کرائی جائے گی، اگر جانچ میں اسپتال ملازمین یا ڈاکٹروں کی کسی بھی طرح کی لاپرواہی سامنے آتی ہے تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
