
آئی اے این ایس
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے ای-20 (20 فیصد ایتھنول کی ملاوٹ والے) پٹرول کے خلاف ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ویڈیو میں وہ ایک کار کے پاس جاتے ہیں، اس کی پٹرول ٹینکی کا ڈھکن کھولتے ہیں اور ای-20 پٹرول کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’دال میں کالا نہیں، پوری دال ہی کالی ہے۔‘‘
راہل گاندھی نے کہا کہ ای-20 کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ انہوں نے کہا، ’’عام طور پر ہم کہتے ہیں کہ دال میں کچھ کالا ہے، مگر یہاں پوری دال ہی کالی ہے۔ بھائیو اور بہنو! ہر مہم میں یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کن معاملات کو پہلے اٹھایا جائے۔ اس وقت بدعنوانی کے اتنے زیادہ معاملات ہیں کہ ترجیحات طے کرنا مشکل ہو گیا ہے، لیکن فکر نہ کریں، ہم ای-20 کے مسئلے کو بڑے پیمانے پر اٹھائیں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ای-20 پٹرول عوام کی کاروں اور اسکوٹروں کو نقصان پہنچا رہا ہے، ان کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے اور حکومت براہِ راست ان کی جیبوں سے پیسہ نکال رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف ایندھن کا نہیں بلکہ عام صارفین کے معاشی مفادات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کانگریس گزشتہ چند دنوں سے ایتھنول کی ملاوٹ والے پٹرول کی پالیسی پر مسلسل سوال اٹھا رہی ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ حکومت کی ای-20 پالیسی سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑا ہے، جبکہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ایتھنول تیار کرنے والی کمپنیوں کو ہوا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بھی اس معاملے پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ مارچ 2025 سے ملک کے بیشتر پٹرول پمپوں پر عملاً صرف ای-20 پٹرول دستیاب ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کے ان سابقہ بیانات کا حوالہ دیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایتھنول کی آمیزش سے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔
جے رام رمیش نے ایک آزاد تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اپریل 2023 سے مارچ 2026 کے درمیان ای-20 پٹرول کی کم مائلیج کے باعث صارفین نے مجموعی طور پر تقریباً 88 ہزار 234 کروڑ روپے اضافی خرچ کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت چاہتی تو ای-20 پٹرول کی قیمت کم کرکے صارفین کو اس اضافی بوجھ سے بچا سکتی تھی۔ انہوں نے نیتی آیوگ کے ایتھنول روڈ میپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بھی ای-10 اور ای-20 ایندھن پر مالی اور ٹیکس مراعات کی سفارش کی گئی تھی تاکہ عوام کو کم مائلیج کا نقصان برداشت نہ کرنا پڑے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ ای-20 پالیسی نے متوسط طبقے کے لیے ایندھن کے متبادل محدود کر دیے ہیں، ان کے اخراجات بڑھا دیے ہیں اور برسوں کی محنت سے خریدی گئی گاڑیوں پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
دوسری جانب مرکزی حکومت کا موقف ہے کہ ایتھنول ملا پٹرول سے خام تیل کی درآمد پر انحصار کم ہوگا، زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، کیونکہ ایتھنول کی پیداوار سے زرعی شعبے کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔