2022 کے بعد 111 عوامی نمائندوں نے بدلی سیاسی وابستگی، ناگالینڈ اور بنگال سرفہرست: اے ڈی آر

اے ڈی آر کے مطابق 2022 سے 2026 کے درمیان انتخاب جیتنے کے بعد 111 ارکانِ پارلیمنٹ و اسمبلی نے جماعت بدلی۔ ناگالینڈ میں 32 اور مغربی بنگال میں 20 ایسے معاملے سامنے آئے

اے ڈی آر لوگو
i

نئی دہلی: ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) اور نیشنل الیکشن واچ کے ایک تجزیے کے مطابق 2022 سے 2026 کے درمیان پارلیمنٹ یا ریاستی اسمبلیوں کا انتخاب جیتنے کے بعد 111 ارکانِ پارلیمنٹ اور اسمبلی نے اپنی سیاسی جماعتیں تبدیل کیں۔ ان میں 26 لوک سبھا ارکان، 7 راجیہ سبھا ارکان اور 78 ارکانِ اسمبلی شامل ہیں۔

اے ڈی آر کے مطابق ان معاملات میں ارکان کا اپنی جماعت چھوڑ کر دوسری جماعت میں شامل ہونا، سیاسی جماعتوں کا انضمام، استعفیٰ دینے کے بعد ضمنی انتخاب جیتنا اور نااہلی کے بعد ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنا شامل ہے۔

تجزیے کے مطابق ناگالینڈ میں سب سے زیادہ 32 دَل بدلی کے معاملے سامنے آئے اور یہ تمام ارکانِ اسمبلی سے متعلق تھے۔ ان میں زیادہ تر معاملات نیشنلسٹ ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (این ڈی پی پی) اور ناگا پیپلز فرنٹ (این پی ایف) کے درمیان سیاسی صف بندی سے متعلق تھے۔

این ڈی پی پی کے ٹکٹ پر انتخاب جیتنے والے 25 ارکانِ اسمبلی بعد میں اپنی جماعت تبدیل کرنے والوں میں شامل رہے، جبکہ مجموعی طور پر 32 ارکان این پی ایف میں شامل ہوئے۔ اے ڈی آر کے مطابق این پی ایف سب سے زیادہ ارکان کو اپنی جماعت میں شامل کرنے والی پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔


مغربی بنگال میں دَل بدلی کے 20 معاملے سامنے آئے اور یہ تمام لوک سبھا ارکان سے متعلق تھے۔ اے ڈی آر کے مطابق ان تمام ارکان نے ابتدا میں آل انڈیا ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی اور بعد میں نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں شمولیت اختیار کی۔

ان ارکان نے این سی پی آئی میں انضمام کا دعویٰ کیا ہے اور اس معاملے پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے سامنے غور جاری ہے۔ تلنگانہ میں دَل بدلی کے 9 معاملے سامنے آئے اور تمام ارکانِ اسمبلی بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے، جو بعد میں کانگریس میں شامل ہو گئے۔

گوا میں 8 ایسے معاملے سامنے آئے جن میں کانگریس کے ارکانِ اسمبلی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہوئے۔ پنجاب میں بھی 8 معاملے سامنے آئے، جن میں راجیہ سبھا کے 6 ارکان اور 2 ارکانِ اسمبلی شامل تھے۔ راجیہ سبھا کے ان ارکان نے عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔

مہاراشٹر میں دَل بدلی کے 6 معاملے سامنے آئے اور یہ تمام لوک سبھا ارکان سے متعلق تھے۔ ان ارکان نے شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی اور بعد میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں شامل ہوگئے۔


میگھالیہ میں ارکانِ اسمبلی سے متعلق 6، منی پور میں 5، اروناچل پردیش اور گجرات میں 4-4، ہماچل پردیش اور راجستھان میں 2-2 جبکہ کرناٹک، مدھیہ پردیش، سکم اور اتر پردیش میں ایک ایک معاملہ سامنے آیا۔ دہلی میں راجیہ سبھا کے ایک رکن نے جماعت تبدیل کی۔

جماعتوں کے اعتبار سے این ڈی پی پی سے سب سے زیادہ 25 منتخب نمائندے الگ ہوئے۔ اس کے بعد ترنمول کانگریس سے 20 اور کانگریس سے 19 نمائندوں نے جماعت بدلی۔ بی آر ایس کے 9، عام آدمی پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے 7-7، شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے 6، جنتا دل (یونائیٹڈ) کے 5 اور نیشنل پیپلز پارٹی کے 4 نمائندے بھی جماعت تبدیل کرنے والوں میں شامل رہے۔

اے ڈی آر کے مطابق این ڈی پی پی، ترنمول کانگریس اور کانگریس سے متعلق معاملات کی تعداد مجموعی 111 میں سے 64 رہی، جو تقریباً 58 فیصد بنتی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ حالیہ دَل بدلی کے بعض معاملات ریاستی اسمبلیوں میں حکومتوں کی تبدیلی سے بھی جڑے رہے ہیں۔

اے ڈی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تجزیہ مکمل نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ جماعت تبدیل کرنے والے ارکانِ اسمبلی کا کوئی جامع اور آسانی سے دستیاب سرکاری ڈیٹا بیس موجود نہیں ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔