انتخابات سے پہلے یوپی میں انتظامی بساط کی نئی ترتیب، سینئر افسران کے تبادلے...ناگیندر
اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے قبل سینئر آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے تبادلوں نے انتظامیہ اور سیاست کے تعلقات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسے انتخابی تیاری سے بھی جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے چند ماہ پہلے سینئر افسران کے تیزی سے ہونے والے تبادلوں نے ریاست کی انتظامی اور سیاسی بساط میں ممکنہ تبدیلیوں کی بحث تیز کر دی ہے۔ اتوار کو 10 اور پیر کو 34 سینئر آئی اے ایس افسران کے تبادلوں کے بعد منگل کی دیر رات 18 سینئر آئی پی ایس افسران کو بھی نئی ذمہ داریاں دی گئیں۔ آنے والے دنوں میں بیوروکریسی میں مزید تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض انتظامی ضرورت ہے یا انتخابات سے پہلے انتظامی ٹیم کو نئی ترجیحات کے مطابق ترتیب دینے کی تیاری؟
اتر پردیش میں وزرا اور افسران کے درمیان اختلافات اور ارکان اسمبلی کی افسر شاہی سے شکایات کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم انتخابات قریب آنے کے ساتھ یہ شکایات زیادہ نمایاں ہونے لگی ہیں۔ لکھنؤ میں حالیہ تال میل اجلاس کے دوران بعض ارکان اسمبلی کی ناراضگی سامنے آنے کی بات کہی گئی۔ بعض حلقوں کے مطابق اجلاس میں حالات اس قدر کشیدہ ہوئے کہ ایک شخص جذباتی ہو گیا، جبکہ دوسرے لوگوں نے اسے دباؤ کی سیاست کا حصہ قرار دیا۔
اس اجلاس کے بعد ہونے والے تیز رفتار تبادلوں نے ان قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دی ہے کہ حکومت نے ایک طرف وزرا اور عوامی نمائندوں کی شکایات کو اہمیت دی ہے، تو دوسری طرف انتخابات سے پہلے انتظامی ڈھانچے کو بھی اپنی ترجیحات کے مطابق ترتیب دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
کئی وزرا کو طویل عرصے سے شکایت رہی ہے کہ ان کے محکمہ کے اعلیٰ افسران ان کی بات کو مطلوبہ اہمیت نہیں دیتے۔ توانائی کے وزیر اے کے شرما کے بارے میں بھی ایک افسر سے ناراضی کی باتیں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔ پنچایتی راج کے وزیر اوم پرکاش راجبھر کی ایک سکریٹری سے ناراضگی کی بات بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث رہی ہے۔ اسی طرح سیکریٹریٹ میں تعینات بعض اعلیٰ افسران سے دونوں نائب وزرائے اعلیٰ کی ناراضگی کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
یہ صورت حال صرف وزرا تک محدود نہیں رہی۔ ارکان اسمبلی بھی کئی مواقع پر افسران کے رویے کو لے کر شکایت کرتے رہے ہیں۔ فون نہ اٹھانا، واپس کال نہ کرنا، سرکاری پروگراموں میں منتخب نمائندوں کو مدعو نہ کرنا، پروٹوکول کا خیال نہ رکھنا یا عوامی مسائل کے سلسلے میں ارکان اسمبلی کی سفارشات کو نظرانداز کرنا ان شکایات میں شامل رہا ہے۔
سابق آئی پی ایس افسر اے کے ورما کے مطابق، انتخابات قریب آنے پر افسران کے تبادلوں کو محض کسی کو خوش کرنے کی کارروائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت ایسے مواقع پر انتظامی ٹیم کو اپنی ترجیحات کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش بھی کرتی ہے۔
یہ وقت کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے پہلے کئی دوسرے انتخابات اور انتخابی مراحل آنے ہیں۔ ان کے لیے ضابطۂ اخلاق نافذ ہوگا اور اس کے بعد انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کی گنجائش محدود ہو جائے گی۔ ضلع مجسٹریٹوں اور بعض دیگر اہم افسران کے تبادلے انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد آسان نہیں رہیں گے۔
اس کے بعد ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا مرحلہ بھی اہم ہوگا۔ انتخابات سے قبل حتمی ووٹر فہرست جاری ہونے تک انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کے لیے حکومت کے پاس محدود گنجائش رہ جائے گی۔ اس کے بعد اگر انتخابات کے اعلان اور ضابطۂ اخلاق کے نفاذ میں زیادہ وقت نہ بچا تو نئی تعیناتی پانے والے افسران کے لیے بھی نئی جگہ پر خود کو قائم کرنے اور حکومت کی توقعات کے مطابق کام کرنے کا وقت بہت کم ہوگا۔
اتر پردیش کی سیاست اور بیوروکریسی پر نظر رکھنے والے سینئر صحافی پرویز احمد کے مطابق، کم وقت میں حکومت کے لیے انتظامی ٹیم کی نئی ترتیب اور اس کے نتائج دونوں حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ ان کے مطابق اگر موجودہ تبادلوں سے کچھ وزرا یا ارکان اسمبلی کو اطمینان ملا بھی ہے تو اس سے آگے کا پہلو زیادہ اہم ہے، یعنی انتخابات سے قبل انتظامی سطح پر اپنی ٹیم کو نئی ترتیب دینا۔
اتر پردیش میں بی جے پی اور حکومت کے درمیان تنظیمی و انتظامی تال میل کا سوال بھی گزشتہ چند برسوں میں بارہا سامنے آتا رہا ہے۔ 2021 میں لکھنؤ میں بی جے پی کی ایک تال میل میٹنگ کے دوران ارکان اسمبلی کی جانب سے افسر شاہی کے خلاف شکایات سامنے آنے کی بات کہی گئی تھی۔ اس وقت بھی بی ایل سنتوش موجود تھے اور یوگی آدتیہ ناتھ ہی وزیر اعلیٰ تھے۔
اس وقت ارکان اسمبلی کی شکایت تھی کہ افسران ان کی بات نہیں سنتے، عوام کے کام نہیں ہو رہے اور حکومت و تنظیم کے درمیان مطلوبہ تال میل موجود نہیں۔ بعد کے برسوں میں بھی کئی وزرا اور رہنماؤں کی جانب سے حکومت اور افسر شاہی کے تعلقات سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد بھی پارٹی کی سطح پر ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں حکومت، تنظیم اور افسر شاہی کے درمیان تعلقات کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔ اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک بھی موجود تھے۔ وہاں بھی ارکان اسمبلی اور تنظیم سے وابستہ لوگوں کی ناراضی کا معاملہ سامنے آنے کی بات کہی گئی۔
سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار اتکرش سنہا کے مطابق، بی جے پی حکومت میں ارکان اسمبلی کی جانب سے افسر شاہی سے متعلق شکایات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں اور عام طور پر انہیں سیاسی سطح پر سنبھال لیا جاتا ہے۔ تاہم موجودہ حالات کو صرف ارکان اسمبلی اور افسران کے درمیان کشیدگی تک محدود کرکے دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔
اتر پردیش حکومت اپنے دوسرے پانچ سالہ دور کے اختتامی مرحلے میں ہے۔ اس دوران حکومت اور پارٹی کے درمیان تال میل کا سوال مسلسل اہم رہا ہے۔ کبھی ارکان اسمبلی نے افسران کے رویے پر اعتراض کیا، کبھی وزرا اور اعلیٰ افسران کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئیں اور کبھی انتظامی سطح پر منتخب نمائندوں کی مداخلت کے دائرے پر بحث ہوئی۔
افسر شاہی اور عوامی نمائندوں کے درمیان کشیدگی کے کئی واقعات پہلے بھی سامنے آچکے ہیں۔ جولائی 2024 میں نند کشور گوجر کا معاملہ زیر بحث آیا، جب انہوں نے عوامی نمائندوں کی ایک میٹنگ میں پولیس کمشنر کے رویے اور اپنی سکیورٹی ہٹائے جانے کی شکایت کی تھی۔ اس کے بعد ایک ڈی سی پی کو ہٹائے جانے کی خبر سامنے آئی۔
علی گڑھ میں بھی ایک بی جے پی رکن اسمبلی کے پروٹوکول سے متعلق معاملہ زیر بحث رہا، جب ایک انسپکٹر کے جانب سے انہیں سلام نہ کرنے کا واقعہ سیاسی مسئلہ بن گیا۔ باندا میں ایک ایس ڈی ایم کے تبادلے کا معاملہ بھی انتظامیہ اور سیاسی نمائندوں کے درمیان اختلاف کے تناظر میں زیر بحث آیا۔ وہاں ریت سے لدے اوور لوڈ ٹرکوں کے خلاف کارروائی اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے معاملے کو سیاسی رنگ دیا۔
فروری 2026 میں افسران کے رویے کا مسئلہ اتر پردیش اسمبلی میں بھی اٹھا تھا۔ اسمبلی اسپیکر ستیش مہانا نے افسران کو ارکان اسمبلی کے ساتھ مناسب برتاؤ اور پروٹوکول یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی۔ اس معاملے کی اہم بات یہ تھی کہ شکایات صرف حکمراں جماعت کے ارکان اسمبلی کی طرف سے نہیں بلکہ اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے بھی سامنے آئی تھیں۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف پروٹوکول یا عزت و احترام کا نہیں ہے۔ ارکان اسمبلی کی ایک بڑی شکایت یہ بھی رہی ہے کہ ضلع، تحصیل اور تھانے کی سطح پر افسران کے رویے کی وجہ سے وہ اپنے حلقے کے عوام کے مسائل حل کرانے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر پاتے۔ یعنی معاملہ براہ راست حکومت اور عوام کے درمیان رابطے سے بھی جڑا ہوا ہے۔
موجودہ تبادلوں کو اسی وسیع پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف حکومت کے سامنے وزرا اور ارکان اسمبلی کی شکایات ہیں، دوسری طرف انتخابات کی تیاری کا وقت تیزی سے قریب آ رہا ہے۔ ایسے میں انتظامی سطح پر تبدیلیاں حکومت کو اپنی ترجیحات کے مطابق افسران کی تعیناتی کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
سیاسی مبصر سدھارتھ راجو کے مطابق، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حالیہ تبادلوں کا بنیادی مقصد ناراض ارکان اسمبلی یا عوامی نمائندوں کو خوش کرنا ہے۔ تاہم یہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت کے سامنے وزیر اور افسر، اور رکن اسمبلی اور افسر کے تعلقات کا مسئلہ حقیقی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
اس لیے حالیہ تبادلوں کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں ہے کہ کون سا افسر کہاں گیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ حکومت آئندہ چند ماہ کے لیے انتظامی ڈھانچے کو کس طرح ترتیب دیتی ہے اور نئی تعیناتیاں کس نوعیت کی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔ انتخابات کے اعلان کے بعد انتظامی تبدیلیوں کی گنجائش محدود ہو جائے گی۔ اس لیے موجودہ مرحلے میں ہونے والے تبادلوں کو انتخابی سیاست، انتظامی ضرورت اور حکومت و عوامی نمائندوں کے درمیان تعلقات—تینوں زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں اگر مزید بڑے تبادلے ہوتے ہیں تو ان سے اس سمت کا اندازہ زیادہ واضح ہو سکتا ہے جس طرف حکومت اپنی انتظامی ٹیم کو لے جانا چاہتی ہے۔ فی الحال اتنا ضرور ہے کہ یوپی میں انتخابی موسم شروع ہونے سے پہلے انتظامی بساط پر کئی مہرے اپنی جگہ بدل چکے ہیں اور اب اگلی چال پر سیاسی و انتظامی حلقوں کی توجہ مرکوز ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
