
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے ملک کے تعلیمی نظام پر ایک بار پھر حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نظام اسی نسل کو ناکام کر رہا ہے جسے آگے بڑھانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے پیپر لیک، تعلیم کی بھاری فیس اور خستہ حال بنیادی ڈھانچے کو موجودہ نظام کی بڑی خامیوں میں شمار کیا اور کہا کہ ان مسائل کے باعث لاکھوں محنتی نوجوانوں کو بھی نظام مایوس کر رہا ہے۔
راہل گاندھی نے جمعہ کو ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام اس نسل کو ناکام کر رہا ہے جسے اسے آگے بڑھانا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ پیپر لیک، ناقابل برداشت فیس اور خستہ تعلیمی بنیادی ڈھانچہ اس ناکامی کی نمایاں مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے لاکھوں نوجوان ایمانداری سے محنت کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود نظام انہیں مایوس کر دیتا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ تعلیمی نظام کو درست کرنے کی شروعات ان لوگوں کی بات سننے سے ہونی چاہیے جو روزانہ اس کی ناکامیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ سے بھی اپیل کی کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے تعلیمی نظام پر اعتماد اور امید کیوں کھو دی ہے۔
راہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے تجربات، ثبوت اور تجاویز شیئر کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے لیے ایک آن لائن لنک بھی شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی طور پر کوشش کر کے تعلیمی نظام میں امید دوبارہ پیدا کی جا سکتی ہے۔
یہ بیان راہل گاندھی کی جانب سے ایک روز قبل ’ایکس‘ پر شیئر کیے گئے ویڈیو پیغام کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے مقصد اور 19 ستمبر کو مدھیہ پردیش کے اندور میں ہونے والے پروگرام کے بارے میں بات کی تھی۔ اس ویڈیو میں انہوں نے کہا تھا کہ اس مہم کا مقصد ملک کے طلبہ کی آواز، ان کے خیالات اور خدشات کو سامنے لانا ہے۔ انہوں نے طلبہ سے امتحانی نظام، تعلیمی دباؤ، ہاسٹل، رہائش اور دیگر مسائل کے بارے میں اپنی رائے دینے کی اپیل کی تھی۔
نئی پوسٹ میں تاہم راہل گاندھی نے دائرہ وسیع کرتے ہوئے صرف طلبہ کی مشکلات سننے کی اپیل نہیں کی بلکہ تعلیمی نظام کی چند مخصوص خامیوں کو بھی واضح طور پر نشان زد کیا ہے۔ ان میں پیپر لیک، تعلیم کی بڑھتی لاگت اور خستہ بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔
راہل گاندھی کی ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے تحت اس سے پہلے کوٹا، دہرادون، پریاگ راج اور پونے میں پروگرام منعقد کیے جا چکے ہیں۔ مہم کے اگلے مرحلے میں 19 ستمبر کو اندور میں پروگرام ہونا ہے۔
تعلیمی نظام سے متعلق ان کے حالیہ بیانات میں پیپر لیک، بھرتیوں میں تاخیر، تعلیم کے بڑھتے اخراجات اور طلبہ کے لیے ناقص سہولتوں جیسے مسائل بار بار سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے پونے (مہاراشٹر) میں طلبہ کے احتجاج کے حوالے سے پیپر لیک، مہنگی تعلیم اور ہاسٹل کے خراب حالات کو نمایاں کیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔