گونڈا میں تاجر کے قتل پر یوگی کے وزیر کا اپنی ہی حکومت کے خلاف دھرنا، کہا- ’ملزمان کا انکاؤنٹر کرو‘
گونڈا میں تاجر ونود سہنی کے قتل پر یوگی حکومت کے وزیر سنجے نشاد نے کے جی ایم یو میں دھرنا دیا اور پولیس پر غفلت کا الزام لگاتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری، انکاؤنٹر اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا

اتر پردیش کے گونڈا میں 45 سالہ برتن تاجر ونود کمار سہنی کے قتل کے معاملے نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مقتول کے اہل خانہ اور پولیس کی کارروائی سے ناراض اتر پردیش حکومت کے کابینہ وزیر اور نشاد پارٹی کے صدر سنجے نشاد نے اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے لکھنؤ کی کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) کے پوسٹ مارٹم ہاؤس میں دھرنا دیا اور پولیس پر لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ونود سہنی گونڈا کے پرسپور تھانہ علاقے کے ریکڑیا گاؤں کے رہنے والے تھے اور مقامی بازار میں برتن کی دکان چلاتے تھے۔ پولیس کے مطابق بدھ کی شام دکان بند کرکے موٹر سائیکل سے گھر واپس جاتے وقت تقریباً 10 افراد نے چار موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر انہیں راستے میں روک لیا اور حملہ کر دیا۔ شدید زخمی حالت میں انہیں پہلے مقامی صحت مرکز، پھر گونڈا میڈیکل کالج اور بعد ازاں علاج کے لیے کے جی ایم یو لایا گیا، جہاں جمعرات کو ان کی موت ہو گئی۔
پولیس نے اس معاملے میں تین مشتبہ ملزمان شبھم سنگھ، آکاش سنگھ اور سبھاش سنگھ کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق پرسپور تھانے کے انچارج، شاہ پور پولیس چوکی کے انچارج اور ایک کانسٹیبل کو فرائض میں غفلت کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کی گئی ہے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں حملے کی وجہ سوشل میڈیا پوسٹ سے پیدا ہونے والا تنازعہ بتائی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ونود سہنی نے مبینہ طور پر ہندو دیوی دیوتاؤں اور سنتوں کے خلاف کچھ پیغامات پوسٹ کیے تھے، جس سے بعض مقامی افراد ناراض تھے۔ تاہم ان پوسٹس کے اصل مواد اور سیاق کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
واقعہ کے بعد پولیس کی جانب سے حملہ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے بارے میں بھی مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں دھاردار ہتھیار اور نیزے جیسے ہتھیاروں سے حملے کی بات کہی گئی، جبکہ بعد میں پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جسم پر گولی یا دھاردار ہتھیار کے زخم نہیں ملے اور موت شدید چوٹوں کے باعث ہوئی۔ پولیس کے مطابق ونود کو لاٹھیوں سے بری طرح پیٹا گیا تھا۔
سنجے نشاد نے پولیس سے تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرنے، متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ و سرکاری ملازمت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ملزمان کے خلاف انکاؤنٹر اور غیر قانونی املاک پر بلڈوزر کارروائی کی بات بھی کہی۔
وزیر جمعہ کو گونڈا پہنچنے پر ایک بار پھر پولیس پر برہم ہوئے۔ سرکٹ ہاؤس کے چاروں طرف بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی پر انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنی فورس لگا کر حکومت کی شبیہ خراب کی جا رہی ہے۔
اس احتجاج میں سماج وادی پارٹی کے رہنما بھی شامل ہوئے۔ ایس پی کے پسماندہ طبقات سیل کے ریاستی صدر راج پال کشیپ نے سنجے نشاد کے ساتھ دھرنے میں شرکت کی۔ ایس پی صدر اکھلیش یادو نے بھی معاملے کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
