موسیقار چونگتھم وکرم سنگھ کی تعزیتی نشست میں راہل گاندھی کی شرکت، ’طاقت ور ہونا تشدد اور تکبر کا لائسنس نہیں‘
راہل گاندھی نے موسیقار چونگتھم وکرم سنگھ کی یاد میں منعقدہ تقریب میں کہا کہ طاقت ور ہونے کو تشدد، تکبر اور منمانی کا جواز سمجھنا خطرناک رجحان ہے، جس کا مقابلہ کیا جائے گا

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی جمعرات کو نئی دہلی میں منی پور کے معروف موسیقار چونگتھم وکرم سنگھ کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شریک ہوئے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ملک میں بڑھتے تشدد، نفرت اور طاقت کے غلط استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
راہل گاندھی نے کہا کہ آج کل یہ ایک طرح کا ’فیشن‘ بن گیا ہے کہ اگر کوئی طاقت ور ہے تو وہ خود کو تشدد اور تکبر کا حق دار سمجھ سکتا ہے اور اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سوچ کو قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر آپ طاقت ور ہیں تو آپ تشدد پسند ہو سکتے ہیں، متکبر ہو سکتے ہیں اور اپنی مرضی سے وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو آپ کا دل چاہے۔‘‘ راہل گاندھی نے واضح کیا کہ تشدد کا جواب تشدد اور نفرت کا جواب نفرت نہیں ہو سکتا۔
قائد حزب اختلاف نے چونگتھم وکرم سنگھ کی موت کو ایک المناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس معاملے میں انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تشدد کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے، بلکہ ملک میں ایسے واقعات بار بار ہو رہے ہیں۔ کبھی کسی کا قتل ہوتا ہے، کبھی توہین، دھمکی یا تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ یہ صورت حال خاص طور پر شمال مشرق کے لوگوں اور ملک کی دیگر برادریوں کے ساتھ بھی پیش آ رہی ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس صورتحال کا مقابلہ کیا جائے گا۔
چونگتھم وکرم سنگھ کو گزشتہ اتوار کی رات دہلی کے کلیوکری گاؤں علاقے میں پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ اپنے گھر کے باہر ہونے والے شور شرابے پر اعتراض کر رہے تھے، جس کے بعد تنازع پیدا ہوا اور ان پر حملہ کیا گیا۔ کانگریس کے مطابق وکرم سنگھ کو صرف شور کم کرنے کے لیے کہنے پر ان کے گھر کی دہلیز پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
واقعے کے بعد راہل گاندھی نے وکرم سنگھ کے بھائی سے فون پر بات کی اور انصاف کی جدوجہد میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وکرم سنگھ کی موسیقی اور ان کی شخصیت ان تمام لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی جنہیں انہوں نے متاثر کیا۔
تقریب میں منی پور کے سابق وزیر اعلیٰ اوکرام ایبوبی سنگھ سمیت کانگریس کے کئی رہنما بھی شریک ہوئے۔ ایبوبی سنگھ نے کہا کہ اس واقعے نے منی پور کے لوگوں کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے شمال مشرقی باشندوں کے ساتھ امتیازی رویے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہلی میں بعض اوقات ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ نیپال یا چین سے ہیں، جبکہ انہیں یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ منی پور سے ہیں اور منی پور بھارت کا حصہ ہے۔
سمیت دیگر کانگریسی رہنماؤں کے جے رام رمیش، کے سی وینوگوپال، پون کھیڑا اور سپریا شرینیت سمیت کئی افراد نے بھی یادگاری تقریب میں شرکت کی اور چونگتھم وکرم سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا۔
