
راگھو چڈھا / آئی اے این ایس
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن راگھو چڈھا نے بدھ کو ایوان میں ملک بھر میں کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کے بڑھتے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے اسے صحت عامہ کے لیے سنگین بحران قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کے لیے تشویش کا باعث ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
Published: undefined
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے راگھو چڈھا نے الزام لگایا کہ کئی کمپنیاں صحت مند اور توانائی بخش ہونے کے دعووں کے ساتھ نقصان دہ مصنوعات فروخت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا میں خطرناک مادے ملائے جا رہے ہیں، جس سے عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دودھ میں یوریا ملایا جاتا ہے، سبزیوں کو تازہ دکھانے کے لیے آکسیٹوسن کے انجکشن لگائے جاتے ہیں، پنیر میں اسٹارچ اور کاسٹک سوڈا شامل کیا جاتا ہے، آئس کریم میں ڈٹرجنٹ پاؤڈر، پھلوں کے جوس میں مصنوعی فلیور اور رنگ، کھانے کے تیل میں مشین کا تیل، مسالوں میں اینٹ کا پاؤڈر اور لکڑی کا برادہ اور چائے میں مصنوعی رنگ ملائے جاتے ہیں۔
Published: undefined
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولٹری مصنوعات میں اینابولک اسٹیروئیڈ شامل کیے جاتے ہیں اور دیسی گھی کے نام پر ونسبتی تیل اور ڈالڈا سے تیار کردہ مٹھائیاں فروخت کی جاتی ہیں۔
راگھو چڈھا نے کہا کہ ایک ماں اپنے بچے کو دودھ اس امید کے ساتھ پلاتی ہے کہ اسے کیلشیم اور پروٹین ملے گا، مگر حقیقت میں اسے یوریا اور دیگر مضر مادوں سے آلودہ دودھ دیا جا رہا ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک تحقیقی مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دودھ کے 71 فیصد نمونوں میں یوریا اور 64 فیصد میں نیوٹرلائزر جیسے سوڈیم بائیکاربو نیٹ کی موجودگی پائی گئی۔
Published: undefined
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں جتنا دودھ پیدا نہیں ہوتا، اس سے زیادہ فروخت کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ 2014-15 سے 2025-26 کے درمیان جانچے گئے نمونوں میں سے 25 فیصد میں ملاوٹ پائی گئی، یعنی ہر چار میں سے ایک نمونہ متاثر تھا۔
انہوں نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ کچھ ہندوستانی مصنوعات جن پر برطانیہ اور یورپ میں کینسر پیدا کرنے والے کیڑے مار ادویات کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی، وہی مصنوعات ملک میں فروخت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ہندوستانی غذائی تحفظ و معیارات اتھارٹی کو مضبوط بنانے، جرمانوں میں اضافہ کرنے، عوامی ریکال نظام متعارف کرانے اور گمراہ کن صحت دعووں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
سنسد ٹی وی اسکرین شاٹ