تاریخ میں پہلی بار ہے جب حکومت خود ہی پارلیمنٹ کو ڈسٹرب کر رہی، کیونکہ ان کے راز سامنے آ رہے ہیں: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں وقت برباد کرنے کے لیے نہیں کھڑے ہیں، عوام نے اپنا قیمتی ووٹ دے کر ہمیں یہاں بھیجا ہے، تاکہ ہم ان کی آواز اٹھائیں۔

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لوک سبھا کی کارروائی میں برسراقتدار طبقہ کے ذریعہ لگاتار رخنہ اندازی پر کانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ آج انھوں نے پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ پارلیمنٹ میں صرف انہی کی چلتی ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ ایوان میں کسی کو بھی کھڑا کر دیں گے، پھر وہ جو چاہے بول سکتا ہے، لیکن قائد حزب اختلاف کو نہیں بولنے دیں گے۔ یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

پرینکا گاندھی نے اندرا گاندھی کے دور حکومت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلہ لینے سے کبھی بھی راہِ فرار اختیار نہیں کیا، لیکن مودی حکومت میں ہمت کی کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پرینکا کہتی ہیں کہ ’’اندرا گاندھی جی کبھی فیصلہ لینے سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ انھوں نے کمرے میں دُبک کر یہ نہیں کہا کہ میں فیصلہ نہیں لوں گی۔ وہ آگے آئیں، فیصلہ لیا اور پاکستان کے 2 ٹکڑے کر دیے۔ لیکن آج جیسا نریندر مودی کر رہے ہیں، ملک ویسے نہیں چلتا ہے۔‘‘


نامہ نگاروں سے پرینکا گاندھی کی اس گفتگو کی ویڈیو کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے، جس میں وہ کہتی نظر آ رہی ہیں کہ اپوزیشن لیڈران پارلیمنٹ میں صرف وقت برباد کرنے نہیں آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم یہاں وقت برباد کرنے کے لیے نہیں کھڑے ہیں، عوام نے اپنا قیمت ووٹ دے کر ہمیں یہاں بھیجا ہے تاکہ ہم ان کی آواز اٹھائیں۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’جب تک قائد حزب اختلاف کو بولنے نہیں دیا جاتا، ہم آواز اٹھائیں گے۔‘‘ اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے جب ایک حکومت خود ہی پارلیمنٹ کو ڈسٹرب کر رہی ہے، کیونکہ ان کے بارے میں انکشافات ہو رہے ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔