
راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج ایوانِ زیریں میں بجٹ سے متعلق اپنی آراء پیش کرنے کے دوران مودی حکومت پر سخت ترین حملے کیے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ، ایپسٹین فائل اور ہندوستانی نوجوانوں کی بے روزگاری سمیت کئی اہم مسائل سامنے رکھے۔ لوک سبھا میں کی گئی ایک تقریر کی ویڈیو راہل گاندھی نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بنگلہ دیش نے نفع بخش تجارتی معاہدہ کیا ہے، جبکہ ہندوستان کو خسارہ ہی خسارہ ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کا منفی اثر ٹیکسٹائل سیکٹر پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ٹیکسٹائل کی ریس میں ہندوستان 18 فیصد ٹیرف کی بیڑیوں میں دوڑے گا اور بنگلہ دیش 0 فیصد کے کھلے میدان میں۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم (مودی) کا ٹرمپ کی شرائط کے سامنے سرینڈر کا اعلان، ہندوستانی ٹیکسٹائل کے لیے موت کا فرمان ہے۔ کیا ہم ریس شروع ہونے سے پہلے ہی پیچھے نہیں چھوٹ رہے؟‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی نے اس سے قبل بھی ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جو آج لوک سبھا میں مکمل تقریر پر مبنی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ نے 140 کروڑ ہندوستانیوں کا مستقبل گروی رکھ دیا ہے۔ نوجوانوں کے روزگار داؤ پر، کسانوں کی فصل سمجھوتے کی میز پر، اور توانائی سیکورٹی بیرون ملکی شرطوں پر!‘‘ اس معاہدہ کو راہل گاندھی نے شدید دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’کوئی وزیر اعظم بغیر بھاری دباؤ کے ایسے گھٹنے نہیں ٹیکتا۔ ہندوستان سمجھتا ہے... یہ معاہدہ برابری کا نہیں، مجبوری کا ہے۔‘‘ اس پوسٹ میں راہل گاندھی نے ’ایپسٹین فائلز‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ایپسٹین فائلز سے ہو یا اڈانی کیس سے، مودی جی نے اپنا اقتدار بچانے کی قیمت قومی مفادات سے ادا کی ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس نے بھی اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر راہل گاندھی کی تقریر کا ایک چھوٹا سا حصہ بشکل ویڈیو جاری کیا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ جو ٹیکسٹ اپوزیشن پارٹی نے درج کیا ہے، اس میں بھی ’ایپسٹین فائلز‘ کا ذکر خاص طور سے موجود ہے۔ پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’’جب مارشل آرٹ میں چوک لگاتے ہیں، تو چوک ہو رہے آدمی کی آنکھ میں ڈر نظر آتا ہے۔ اسی طرح یہاں نریندر مودی کی آنکھ میں ڈر نظر آتا ہے۔ وہ آنکھ میں آنکھ نہیں ملا پاتے ہیں۔ ایپسٹین کیس میں 3 ملین فائلیں ابھی آنی باقی ہیں۔‘‘ راہل گاندھی ’ایپسٹین فائلز‘ کا حوالہ دے کر مودی حکومت پر گزشتہ کچھ دنوں سے مستقل حملہ آور دکھائی دے رہے ہیں۔ آج انھوں نے لوک سبھا میں اسے خاص طور سے اپنی تقریر کا حصہ بنایا، جس پر برسراقتدار طبقہ کے لیڈران کئی بار اعتراض ظاہر کرتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined