’روس نہیں امریکہ اور وینزویلا سے خریدو تیل‘، حکومت نے ریفائنریوں کو دیا حکم

ہندوستانی ریفائنری سالانہ تقریباً 2 کروڑ ٹن یعنی تقریباً 4 لاکھ بیرل روزانہ امریکی تیل لے سکتے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستانی حکومت نے اپنی سرکاری تیل ریفائنری کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور وینزویلا سے زیادہ خام تیل خریدنے پر غور کریں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے تجارتی معاہدہ کے تحت ہندوستان روسی تیل کی درآمد پر متفق ہوا ہے۔ حالانکہ ہندوستان نے عوامی طور پر روسی تیل کو مکمل طور پر بند کرنے کی تصدیق نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی اولین ترجیح توانائی کی سلامتی اور سپلائی کے ذرائع میں تنوع لانا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق ریفائنریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اسپاٹ مارکیٹ میں ٹینڈر جاری کریں تو امریکی تیل کے گریڈ کو ترجیح دیں۔ وینزویلا کے تیل کی خریداری ٹریڈروں کے ساتھ ذاتی طور پر بات چیت کے ذریعہ کی جائے گی۔ حکومت چاہتی ہے کہ درآمدات کے متبادل بڑھائے جائیں تاکہ کسی ایک ملک پر انحصار کم ہو۔


واضح رہے کہ امریکہ اور وینزویلا کے تیل کی خریداری کی اپنی حدود ہیں۔ امریکی خام تیل عام طور پر ہلکا اور کم سلفر والا (لائٹ اینڈ سویٹ) ہوتا ہے۔ جبکہ ہندوستان کی کئی ریفائنریاں درمیانے یا بھاری گریڈ کے تیل کو پروسیس کرنے کے لیے بنی ہیں۔ ایسے میں ہر ریفائنری کے لیے امریکی تیل مناسب نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ امریکہ سے تیل لانے میں طویل سمندری فاصلے کی وجہ سے مال برداری کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کے پاس مغربی افریقہ اور قازقستان جیسے نسبتاً قریبی اور سستے متبادل بھی موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ہندوستانی ریفائنری سالانہ تقریباً 2 کروڑ ٹن یعنی تقریباً 4 لاکھ بیرل روزانہ امریکی تیل لے سکتے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہوگا۔ حال ہی میں انڈین آئل، بھارت پٹرولیم اور ہندوستان پٹرولیم نے وینزویلا سے تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل خریدا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ریاستی ریفائنریاں ہر ماہ محدود مقدار میں ہی وینزویلا کا بھاری اور زیادہ سلفر والا تیل پروسیس کر سکتی ہیں۔ مجموعی طور پر ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات اور سفارتی توازن کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عالمی سیاست اور قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے درمیان ہندوستان اپنی تیل کی درآمدی حکمت عملی کو کس طرح متوازن رکھتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔