مرکزی حکومت نے ’وندے ماترم‘ کے لیے جاری کیا تفصیلی پروٹوکول، تمام سرکاری تقریبات کے لیے لازمی

وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق حکومت نے سرکاری تقریبات کے مواقع پر ’وندے ماترم‘ کے 6 بند والے ورژن کو بجانے یا گانے کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس کا کل دورانیہ 3 منٹ 10 سیکنڈ کا ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>وندے ماترم، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مرکزی حکومت نے قومی گیت ’وندے ماترم‘ کے متعلق نئی گائیڈ لائن جاری کی ہیں۔ ایسے میں اب قومی ترانہ ’جن گن من‘ سے پہلے قومی گیت ’وندے ماترم‘ بجے گا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق حکومت نے سرکاری تقریبات کے مواقع پر ’وندے ماترم‘ کے 6 بند والے ورژن کو بجانے یا گانے کو لازمی قرار دیا ہے۔ اس کا کل دورانیہ 3 منٹ 10 سیکنڈ کا ہوگا۔

نئی گائیڈلائن کے مطابق یہ قومی پرچم لہرانے، تقریبات میں صدر جمہویہ کی آمد، ان کی تقاریر یا ملک کے نام خطاب سے قبل یا بعد میں لازمی طور پور نافذ کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ سرکاری تقریبات، سرکاری اسکولوں میں ہونے والی تقریبات یا دیگر رسمی پروگراموں میں ’وندے ماترم‘ بجایا یا گایا جائے گا۔ گائیڈلائن کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ جب بھی کسی تقریب میں وندے ماترم اور قومی ترانہ دونوں ہوں تو پہلے قومی گیت گایا جائے گا اور اس کے بعد قومی ترانہ۔


گائیڈلائن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس دوران سب کا احترام میں کھڑا ہونا ضروری ہوگا۔ ساتھ ہی وزارت داخلہ نے تعلیمی اداروں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ روزانہ اسکول میں ’پرارتھنا‘ یا ضروری تعلیمی پروگرام میں ’وندے ماترم‘ گیت کو فروغ دیں۔ حالانکہ نئی گائیڈلائن میں سینما ہال کو اس سے دور رکھا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ فلم شروع ہونے سے قبل سینما گھروں میں ’وندے ماترم‘ بجانا اور کھڑا رہنا ضروری نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ وزارت داخلہ قومی گیت کے پروٹوکول کو قومی ترانے کے قریب لانے کے امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہے، جس میں کھڑے ہونے اور احترام کے دیگر اشاروں سے متعلق توقعات بھی شامل ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں اب تک کوئی حتمی آئینی ترمیم یا قانونی التزام متعارف نہیں کروایا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ قومی گیت ’وندے ماترم‘ کو بنکم چندر چٹرجی نے 7 نومبر 1875 کو اکشے نومی کے موقع پر لکھا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔