قومی خبریں

امریکہ سے ہندوستان کا تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے لیے صرف اور صرف پی ایم مودی ذمہ دار: کانگریس

کانگریس نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا بہت نقصان کیا ہے۔ انھوں نے ہندوستان کے وزیر اعظم عہدہ کے وقار کو ہی ختم کر دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کی فائل تصویر / آئی اے این ایس

 
IANS

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستانی سامانوں پر ٹیرف بڑھانے کی نیت کئی بار ظاہر کر چکے ہیں۔ وہ مستقل کہتے بھی رہے ہیں کہ روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے انھوں نے ہندوستانی سامانوں پر بھاری ٹیرف لگایا ہے۔ اس وقت ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف کا نفاذ ہے۔ اب ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے فون نہ کرنے کی وجہ سے ٹرمپ کی انا کو ٹھیس پہنچی ہے۔ امریکہ کے وزیر برائے کامرس ہاورڈ لٹنک نے بتایا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ اس لیے نہیں ہو پایا، کیونکہ وزیر اعظم مودی نے ڈونالڈ ٹرمپ کو فون نہیں کیا۔

Published: undefined

اس معاملے میں کانگریس نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’امریکہ سے ہندوستان کا تجارتی معاہدہ نہ ہونے کے ذمہ دار صرف اور صرف وزیر اعظم مودی ہیں۔ آج بی جے پی اور مودی حامی امریکی کامرس سکریٹری کی آدھی ادھوری بات سن کر خوش ہو رہے ہیں، لیکن پورا سچ ملک مخالف حرکت کا ثبوت ہے۔‘‘ کانگریس نے مزید کہا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ مودی ٹرمپ کو فون کرنے سے جھجک رہے تھے، اس لیے ٹریڈ ڈیل نہیں ہوپائی۔ حالانکہ 3 ہفتہ بعد ہی مودی اور ان کی حکومت بات کرنے کو راضی ہوئے، لیکن تب تک بہت تاخیر ہو چکی تھی۔‘‘

Published: undefined

کانگریس نے یہ تبصرہ اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ’ایکس‘ پر کیا ہے۔ اس اہم اپوزیشن پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’مودی کو جب خود کا پی آر کرنا تھا تب تو سامنے سے فون کیا، لیکن جب بات ملک کی آئی تو آنا کانی کرنے لگے۔‘‘ کانگریس نے یہ بات بھی یاد دلائی کہ ’’امریکہ ’پہلے آؤ، پہلے پاؤ‘ کے اصول کے تحت ٹریڈ ڈیل کر رہا ہے۔ ٹریڈ ڈیل میں پہلے ہندوستان کا نمبر 2 تھا، ہم سے پہلے برطانیہ کے وزیر اعظم نے وقت پر بات کر کے اپنی ڈیل فائنل کر لی تھی۔ جب ہمارا نمبر آیا تو نریندر مودی اور ان کی حکومت نے تیزی سے کام نہیں کیا۔ اگر کام کیا ہوتا تو آج ٹریڈ ڈیل ہو جاتی۔‘‘

Published: undefined

کانگریس نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب وقت تھا تو یہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور وقت نکل گیا۔ اب امریکہ کے آگے ڈیل کے لیے گزارش کر رہے ہیں، لیکن وہ راضی نہیں ہو رہا ہے۔‘‘ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ ’’مودی نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا بہت نقصان کیا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان کے وزیر اعظم کے عہدہ کا وقار تو ختم ہی کر دیا ہے۔ آج امریکہ برسرعام ہندوستان کا اور وزیر اعظم کا مذاق بنا رہا ہے۔ امریکہ میں ہندوستان مخالف قانون لانے کی تیاری ہو رہی ہے۔‘‘ سوشل میڈیا پوست کے آخر میں کانگریس نے یہ بھی کہا کہ ’’نریندر مودی کی طرف سے ایک آواز نہیں نکل رہی ہے۔ نہ لال آنکھ دکھا رہے ہیں، نہ جواب دے رہے ہیں۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ 8 جنوری کو ایک پوڈکاسٹ میں امریکہ کے وزیر لُٹنک نے کہا تھا کہ انھوں نے پی ایم مودی سے صدر ٹرمپ کو فون کر کے معاہدہ کو آخری شکل دینے کی گزارش کی تھی۔ ہندوستان ایسا کرنے میں اچھا محسوس نہیں کر رہا تھا، اس لیے پی ایم مودی نے فون نہیں کیا۔ وزیر برائے کامرس نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا ہے، لیکن انھیں امید تھی کہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ ان ممالک سے پہلے ہو جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ نتیجتاً جن ممالک کے ساتھ پہلے معاہدے ہوئے، وہ مہنگی یا اونچی شرح پر ہوئے۔ پھر بعد میں جب ہندوستان نے رابطہ (فون) کیا اور کہا کہ ’ٹھیک ہے، ہم تیار ہیں‘، تو میں نے ان سے کہا ’کس بات کے لیے تیار ہیں؟‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined