برفیلے طوفان سے امریکہ میں معمولات زندگی درہم برہم، 153 سال میں پہلی بار ’دی بوسٹن گلوب‘ اخبار نہیں ہوا شائع

موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ تقریباً ایک دہائی کا سب سے طاقتور ’نارایسٹر‘ طوفان ہے۔ کئی مقامات پر فی گھنٹہ 2 سے 3 انچ تک برف گرتی رہی اور ہوا کی رفتار 110 میل فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔

<div class="paragraphs"><p>برفیلا طوفان، علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ کے شمال مشرقی حصہ میں آئے شدید برفیلے طوفان نے معمولات زندگی کو پوری طرح درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ تیز ہواؤں اور ریکارڈ برف باری کے سبب ایئرپورٹس پر رَنوے بند کرنے پڑے اور ہزاروں پروازیں منسوخ کی گئیں۔ اتنا ہی نہیں، لاکھوں گھروں کی بجلی بھی اس برفیلے طوفان کی وجہ سے گل ہو گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ اتوار سے منگل کے درمیان 11055 سے زائد پروازیں کینسل کی گئی ہیں۔ فلائٹ ٹریکنگ کمپنی ’فلائٹ اویئر‘ کے مطابق حالات اتنے خراب تھے کہ کئی بڑے ایئرپورٹس کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ ’نیشنل ویدر سروس‘ کے مطابق رہوڈ جزیرہ اور میساچوئٹس کے کئی علاقوں میں 37 انچ تک برف باری درج کی گئی ہے۔ نیویارک سٹی کے سنٹرل پارک میں اتوار سے پیر کے درمیان تقریباً 20 انچ برف گری، جبکہ لانگ جزیرہ کے اسلپ علاقہ میں 22 انچ سے زیادہ برف باری ہوئی۔ اسی طرح روڈ جزیرہ کے پروویڈنس میں 32.8 انچ برف باری درج کی گئی، جس نے 1978 میں بنے 28.6 انچ کے پرانے ریکارڈ کو توڑ دیا۔


موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ گزشتہ تقریباً ایک دہائی کا سب سے طاقتور ’نارایسٹر‘ طوفان ہے۔ کئی مقامات پر فی گھنٹہ 2 سے 3 انچ تک برف گرتی رہی اور ہوا کی رفتار 110 میل فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ شدید برف باری اور تیز ہواؤں کے سبب شمال مشرقی ریاستوں میں 6 لاکھ سے زیادہ گھروں اور دفتروں کی بجلی چلی گئی۔ پیر کی شام تک 5 لاکھ 19 ہزار 232 گھر اور دفاتر تاریکی میں ڈوبے رہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 153 سالہ تاریخ میں پہلی بار مشہور اخبار ’دی بوسٹن گلوب‘ اپنا پرنٹ ایڈیشن شائع نہیں کر سکا۔ ملازمین برف کی وجہ سے پرٹنگ پریس تک پہنچ ہی نہیں پائے۔

حالات خراب ہونے کی وجہ سے انتظامیہ کو کئی علاقوں میں ایمرجنسی کا اعلان کرنا پڑا۔ نیویارک سٹی میں اسکول، سڑکیں، پُل اور شاہراہیں عارضی طور پر بند کر دی گئیں۔ بعد میں حالات جب کچھ بہتر ہوئے تو میئر ظہران ممدانی نے اسکول کھولنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے مزاحیہ انداز میں بچوں کو سنوبال پھینکنے کی دعوت بھی دی۔ دوسری طرف میساچوئٹس کے گورنر مورا ہیلی نے کئی علاقوں میں سفری پابندی نافذ کر لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی۔


واضح رہے کہ ’نارایسٹر‘ امریکہ کے مشرقی ساحل پر آنے والا ایک طاقتور سرمائی طوفان ہوتا ہے۔ اسے ’نارایسٹر‘ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں ہوائی عام طور پر شمال سے مشرق کی سمت میں چلتی ہیں۔ سردیوں میں کناڈا کی طرف سے آنے والی بے حد ٹھنڈی ہوا جب بحر اٹلانٹک سے اٹھنے والی گرم اور نم ہواؤں سے ٹکراتی ہے، تب یہ خطرناک سسٹم تیار ہوتا ہے۔ سمندر کا پانی ضرورت سے زیادہ گرم ہونے کے سبب ہوا میں نمی بڑھ جاتی ہے۔ یہی نمی جب ٹھنڈی ہوا سے ملتی ہے تو شدید برف باری شروع ہو جاتی ہے۔ اوپری فضا میں بہنے والی تیز رفتار ہوائیں، جنھیں جیٹ اسٹریم کہا جاتا ہے، اس طوفان کو مزید طاقت فراہم کرتی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔