ادب نامہ: امیر آغا قزلباش کی زندگی، شاعری اور فکری جہات پر خصوصی نشست...ویڈیو
ادب نامہ کی تازہ نشست میں امیر آغا قزلباش کی زندگی، فکری جہات اور نئی غزل میں ان کے کردار پر معین شاداب نے مفصل گفتگو کی اور منتخب اشعار کے ذریعے ان کی شاعری کے کرب اور شعور کو اجاگر کیا
نیشنل ہیرالڈ، نوجیون اور قومی آواز کے مشترکہ ادبی پروگرام ادب نامہ کی تازہ نشست میں ممتاز شاعر امیر آغا قزلباش کی زندگی اور شاعری پر خصوصی گفتگو پیش کی گئی۔نشست کی میزبانی عمران اے ایم خان نے کی جبکہ مہمان خصوصی کے طور پر معروف ادبی شخصیت اور ناظمِ مشاعرہ معین شاداب شریک ہوئے۔
گفتگو کے آغاز میں امیر آغا قزلباش کی ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالی گئی اور اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح ان کے ذاتی تجربات نے ان کی شعری فکر کو متاثر کیا۔ معین شاداب نے کہا کہ قزلباش کی غزلوں میں ایک مجروح آدرش کی بازگشت سنائی دیتی ہے، جو داخلی کرب اور فکری بے چینی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قزلباش کی پوری شاعری ایک ایسے خواب کی ٹوٹ پھوٹ کا اظہار ہے جسے وہ مکمل بکھرنے سے بچانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
نشست میں امیر آغا قزلباش کے منتخب اشعار بھی پیش کیے گئے، جن میں امید، احتجاج اور جینے کے عزم کی جھلک نمایاں تھی۔ معین شاداب نے اس پہلو پر بھی گفتگو کی کہ قزلباش نے نہ خود کو مکمل طور پر کلاسیکی روایت تک محدود رکھا اور نہ ہی خود کو محض جدید رجحان کا نمائندہ بنایا، بلکہ انہوں نے نئی غزل کو ایک تازہ توانائی عطا کی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔