اروناچل کی لڑکیوں سے نسلی بدسلوکی کا معاملہ، دہلی پولیس نے ملزم جوڑے کو کیا گرفتار
دہلی کے مالویہ نگر میں اروناچل کی تین لڑکیوں سے نسلی بدسلوکی کے معاملے میں پولیس نے پانچ دن بعد ملزم جوڑے کو گرفتار کر لیا۔ واقعہ مرمت کے کام پر جھگڑے کے بعد پیش آیا تھا

نئی دہلی: دہلی کے علاقے مالویہ نگر میں اروناچل پردیش کی تین لڑکیوں کے ساتھ مبینہ نسلی بدسلوکی اور توہین آمیز رویے کے معاملے میں دہلی پولیس نے ملزم میاں بیوی کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس حکام نے بدھ کے روز اس کی تصدیق کی۔
گرفتار ملزمان کی شناخت ہرش سنگھ اور روبی جین کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ گرفتاریاں واقعے کے پانچ دن بعد عمل میں آئیں۔ پولیس کے مطابق اس معاملے کی جانچ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس درجے کے افسر کی نگرانی میں کی جا رہی ہے اور سینئر افسران بھی تفتیش پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
الزام ہے کہ مالویہ نگر میں رہائش پذیر اروناچل پردیش کی تین لڑکیوں کے ساتھ ان کے پڑوسیوں نے مبینہ طور پر نسلی تبصرے کیے، گالیاں دیں اور انہیں دھمکایا۔ لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اور شمال مشرقی برادری کو نشانہ بنا کر قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق 20 فروری کو کرائے کے فلیٹ میں مرمت کے کام کو لے کر تنازعہ شروع ہوا۔ لڑکیوں نے چوتھی منزل پر واقع اپنے فلیٹ میں ایئر کنڈیشنر لگوانے کے لیے ایک الیکٹریشن کو بلایا تھا۔ ڈرلنگ کے دوران گرد و غبار اور ملبہ نیچے کی منزل پر گر گیا، جس پر پڑوسیوں نے اعتراض کیا اور بات بڑھتی چلی گئی۔
متاثرہ لڑکیوں نے الزام لگایا کہ بحث کے دوران ملزم جوڑے نے ان کے خلاف نسلی نوعیت کے جملے کہے اور انہیں ہراساں کیا۔ واقعے کی ایک ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس کے بعد معاملہ نے توجہ حاصل کی۔
دہلی پولیس نے بتایا کہ ملزم جوڑے کے خلاف مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ادھر اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے دہلی کے پولیس کمشنر سے فوری اور سخت کارروائی کی درخواست کی۔ میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔