قومی خبریں

’ممبئی کے عوام نے آئینہ دکھایا‘، شیوسینا یو بی ٹی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے ایکناتھ شندے کو بنایا ہدف تنقید

پرینکا چترویدی نے ایکناتھ شندے پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’جب وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا وقت آیا تھا تب بھی اسی طرح کی کشمکش چل رہی تھی۔ ممبئی کے عوام نے بتا دیا ہے کہ اصل شیو سینا کون ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>پرینکا چترویدی / آئی اے این ایس</p></div>

پرینکا چترویدی / آئی اے این ایس

 

مہاراشٹر میں حال ہی میں مکمل ہونے والے برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) انتخاب کے نتائج نے سیاست کی نئی مساوات بنا دی ہیں۔ شیو سینا (شندے) کے صرف 29 امیدوار کامیاب ہوئے، جس کے بعد وہ شیو سینا (یو بی ٹی) کے نشانے پر آگئے ہیں۔ پارٹی کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے ایکناتھ شندے پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’جب وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا وقت آیا تھا تب بھی اسی طرح کی کشمکش چل رہی تھی۔ ممبئی کے عوام نے بتا دیا ہے کہ اصل شیو سینا کون ہے۔‘‘

Published: undefined

واضح رہے کہ شیوسینا (شندے) نے بی جے پی کے سامنے ڈھائی ڈھائی سال کے میئر کی شرط رکھی ہے۔ بی جے پی 89 سیٹ جیت کر سب سے بڑی پارٹی بنی ہے، جبکہ مہایوتی میں شامل شیوسینا (شندے) کے صرف 29 امیدوار ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ ایکناتھ شندے نے اپنے تمام امیدواروں کو ایک ریزورٹ میں رکھا ہوا ہے، جس کے بعد وہ اب اپوزیشن کے نشانے پر آ گئے ہیں۔

Published: undefined

شیوسینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخاب کے متعلق کہا کہ ’’جب وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا وقت آیا تھا تب بھی اسی طرح کی کشمش چل رہی تھی۔ ایکناتھ شندے کو جب نائب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری ملی تھی تب بھی وہ ناراض دکھائی دے رہے تھے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’29 سیٹ اس پارٹی کی آئی ہے جس نے ہماری پارٹی کو توڑا۔ ممبئی کے عوام نے انہیں آئینہ دکھایا اور بتایا کہ اصل شیوسینا کون سی ہے۔ حقیقت سب جانتے ہیں کہ ایکناتھ شندے کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے بجائے اس کہ وہ اس اتحاد کے ساتھ ہی آگے بڑھیں۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ بی ایم سی انتخاب میں ایکناتھ شندے کو بڑا جھٹکا لگا اور مہایوتی اتحاد میں انہیں کافی نقصان اٹھانا پڑا، بی جے پی کے 89 کونسلروں کے مقابلے ان کے صرف 29 کونسلر ہی کامیاب ہو سکے۔ ایکناتھ شندے نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کنگ میکر کے کردار میں ہیں، اس لیے میئر کی مدت ڈھائی ڈھائی سال ہونی چاہیے۔ یہی نہیں انہوں نے اپنے جیتے ہوئے کونسلروں کو ایک ریزورٹ میں منتقل کر دیا ہے۔ جبکہ بی جے پی ڈھائی ڈھائی سال کے فارمولے پر تیار نہیں ہے، اس نے اس بار اپنا میئر بنانے کا پختہ ارادہ کر رکھا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined