مغربی ایشیا میں جنگ سے ہندوستان کی معیشت متاثر ہو رہی اور وزیر اعظم مباحثہ سے راہِ فرار اختیار کر رہے: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا کہ شیئر بازار گر رہا ہے، ایل پی جی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔ اس کا سیدھا اثر ہندوستانی عوام، گھریلو بجٹ اور کاروباروں پر پڑ رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے پیر کے روز ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی پر ’بلیک میل ہونے‘ کا سنگین الزام عائد کیا۔ انھوں نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’پی ایم مودی بلیک میل ہو چکے ہیں، وہ پوری طرح سمجھوتہ کر چکے ہیں اور اسی وجہ سے پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر بحث سے راہِ فرار اختیار کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’’اب وہ (پی ایم مودی) پارلیمنٹ کے اندر نہیں آ پائیں گے۔‘‘

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے ہندوستانی معیشت متاثر ہو رہی ہے، اسے شدید نقصان ہونے والا ہے، لیکن ’کمپرومائزڈ‘ وزیر اعظم میں اس پر بحث کرنے کی ہمت نہیں ہے۔مہنگائی اور معاشی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورت حال عوام سے جڑا ہوا مسئلہ ہے اور اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ اپوزیشن اس موضوع پر بحث کا مطالبہ اس لیے کر رہی ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر ملک کی عوام اور ہندوستانی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ شیئر بازار گر رہا ہے، ایل پی جی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔ اس کا سیدھا اثر ہندوستان کے عام آدمی، گھریلو بجٹ اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں پر پڑ رہا ہے۔


دوسری طرف کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں کہا کہ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازعہ کا اثر ہندوستان کی توانائی سیکورٹی پر پڑ رہا ہے اور اس کا اثر ملک کی معاشی استحکام پر بھی پڑے گا۔ راجیہ سبھا میں اپنے خطاب میں ہندوستانی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو ظاہر کرتے ہوئے کانگریس صدر نے بتایا کہ مغربی ایشیا میں بڑھتا ہوا تناؤ صرف اسی خطے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اثر ہندوستان کی توانائی کی سیکورٹی پر بھی پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی شبیہ بھی متاثر ہو رہی ہے۔

کانگریس صدر نے یاد دلایا کہ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً 55 فیصد حصہ مغربی ایشیا سے درآمد کرتا ہے۔ تنازعہ بڑھنے سے ملک کے معاشی استحکام پر بھی براہ راست اثر پڑے گا۔ اس خطے میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی کام کر رہے ہیں، جن کی سیکورٹی اور روزی روٹی وہاں کے استحکام پر منحصر ہے۔ انہوں نے کچھ ہندوستانیوں کے مارے جانے اور لاپتہ ہونے کی خبروں پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی۔


ملکارجن کھڑگے نے بتایا کہ خلیجی ممالک سے ہندوستان کو سالانہ تقریباً 51 بلین امریکی ڈالر کی رقم بھیجی جاتی ہے، جو لاکھوں ہندوستانی خاندانوں کے لیے زندگی کا اہم سہارا ہے۔ انھوں نے بین الاقوامی عدم استحکام کے درمیان ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ ان عالمی حالات کا بوجھ غریب خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔ حال ہی میں گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 60 روپے اور کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت میں 115 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

راجیہ سبھا میں بیان دینے سے پہلے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی بحران پر وزیر خارجہ کا یکطرفہ بیان کوئی حل نہیں ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر ملک کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ ہندوستانی حکومت کو ہماری توانائی کی سیکورٹی کو یقینی بنانے، ہمارے تاجروں کی مدد کرنے، ہماری برآمدات کے لیے سپلائی چین میں تنوع پیدا کرنے اور قیمتوں میں اضافے کے ذریعے عوام پر بوجھ ڈالنا بند کرنے کے لیے ایک تفصیلی ہنگامی منصوبہ پیش کرنا چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔