مغربی ایشیا کی کشیدگی پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ، ملکارجن کھڑگے نے ہندوستان کی توانائی سلامتی پر گفتگو کے لیے نوٹس دیا
کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے ہندوستان کی توانائی سلامتی پر مختصر مدتی بحث کے لیے نوٹس دیا ہے۔ مغربی ایشیا کی کشیدہ صورتحال کے سبب تیل کی فراہمی پر خدشات بڑھ گئے ہیں

نئی دہلی: کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں ہندوستان کی توانائی سلامتی سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجز پر مختصر مدتی بحث کرانے کے لیے نوٹس پیش کیا۔ یہ نوٹس راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل کو دیا گیا جس پر کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ جے رام رمیش، سید ناصر حسین اور پرمود تیواری نے بھی دستخط کیے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی سمندری تجارت متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اس اہم بحری راستے میں رکاوٹیں بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی تیل کی فراہمی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اس سے قبل لوک سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے بھی مغربی ایشیا کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر فوری بحث کے لیے التوا تحریک کا نوٹس دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی کشیدگی نہ صرف عالمی سیاست بلکہ ہندوستان کی توانائی سلامتی، معاشی مفادات اور بیرون ملک مقیم شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی تشویش کا سبب بن رہی ہے۔
اپنے نوٹس میں کے سی وینوگوپال نے لکھا کہ ملک اس وقت توانائی سلامتی سے متعلق سنجیدہ اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے کیونکہ مغربی ایشیا میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان پیش رفتوں کے ہندوستان کی معیشت، اس کے تزویراتی مفادات اور بیرون ملک مقیم شہریوں کی فلاح و بہبود پر براہ راست اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اس لیے اس معاملے پر ایوان میں فوری توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً 55 فیصد حصہ مغربی ایشیا کے ممالک سے درآمد کرتا ہے اور ملک کو ملنے والی تیل کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی خطے سے آتا ہے۔ ایسے میں اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی یا جنگی صورتحال کے سبب اس علاقے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ہندوستان کی توانائی سلامتی، ایندھن کی دستیابی اور مجموعی معاشی استحکام پر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کا آغاز پیر کے روز ہو گیا۔ لوک سبھا میں کارروائی کے آغاز پر تعزیتی حوالوں کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا، جبکہ راجیہ سبھا میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر بیان دیا۔
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ آج سے شروع ہو کر دو اپریل تک جاری رہے گا۔ اس دوران حکومت کی جانب سے اہم قانون سازی اور مالی سال 2026-27 کے مرکزی بجٹ سے متعلق امور پر بحث متوقع ہے۔ یہ اجلاس 28 جنوری کو صدر جمہوریہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ شروع ہوا تھا اور مجموعی طور پر پینسٹھ دنوں میں تیس نشستوں پر مشتمل ہے۔