
لاش، علامتی تصویر آئی اے این ایس
پٹنہ ضلع میں مسوڑھی کے کھرجما گاؤں کی رہائشی میٹرک کی طالبہ نے امتحان چھوٹ جانے کے صدمے میں چلتی ٹرین سے کود کر خودکشی کر لی ہے۔ متوفی طالبہ کا نام کومل کماری ہے۔ غم کے ساتھ ساتھ اہل خانہ اور گاؤں والوں میں شدید غصہ بھی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔
Published: undefined
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق کومل کو میٹرک کا امتحان دینے برنی کے امتحانی مرکز جانا تھا۔ امتحان صبح 9:30 بجے شروع ہونا تھا اور امتحان دہندگان کو 9 بجے تک رپورٹنگ کرنی تھی۔ امتحان دینے کے لیے وہ پیر کو ہی اپنے رشتہ دار کے گاؤں مہاراج چک پہنچ گئی تھی، تاکہ وقت پر امتحانی مرکز پہنچ سکے۔ مہاراج چک سے امتحانی مرکز کی دوری تقریباً 6 کلومیٹر تھی۔ منگل کی صبح وہ امتحانی مرکز کے لیے نکلی، لیکن راستے میں تاخیر ہونے کی وجہ سے وہ تقریباً 9:10 بجے وہ پہنچی۔ وہاں پہنچنے پر اس نے دیکھا کہ مین گیٹ بند کر دیا گیا ہے اور داخلہ بند ہو چکا ہے۔
Published: undefined
عینی شاہدین کے مطابق کومل گیٹ کے باہر کھڑی ہو کر اندر موجود عملے سے بار بار منت سماجت کرتی رہی۔ لیکن قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے اسے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ کافی دیر تک کوشش کرنے کے بعد بھی جب گیٹ نہیں کھلا تو وہ مایوس ہو کر واپس لوٹ گئی۔ گھر لوٹنے کے بعد بھی وہ شدید ذہنی تناؤ میں تھی۔ کچھ دیر بعد وہ گھر سے نکل گئی اور ندول اسٹیشن پہنچ کر ایک ٹرین میں سوار ہو گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ تریگنا اور مسوڑھی کورٹ اسٹیشنوں کے درمیان چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا دی۔ شدید زخمی حالت میں پولیس اور مقامی لوگوں کی مدد سے اسے اسپتال پہنچایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی۔
Published: undefined
طالبہ کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو پائی تھی، اس لیے مسوڑھی تھانہ کی پولیس نے اس کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ تصویر وائرل ہونے پر آس پاس کے لوگوں نے اس کی شناخت اور اہل خانہ کو اس کے متعلق اطلاع دی۔ بیٹی کی موت کی خبر ملتے ہی ماں غم کی وجہ سے نڈھال ہو گئی اور اہل خانہ پر دکھوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ متوفی طالبہ کے والد منٹو یادو باہر مزدوری کرتے ہیں۔ خاندان میں 2 چھوٹی بہنیں اور ایک بھائی ہے، جن میں کومل سب سے بڑی تھی اور اہل خانہ کو اس سے کافی امیدیں وابستہ تھیں۔ اس کی موت نے پورے گاؤں کو سوگوار کر دیا ہے۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اگر اسے کچھ منٹ کی راحت دے دی جاتی تو ایک جان بچ سکتی تھی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined