قومی خبریں

کسانوں کی حمایت میں اپوزیشن کا جنتر-منتر پر مظاہرہ، راہل گاندھی نے لگائے نعرے

زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کر رہے کسانوں کی حمایت میں تقریباً 14 اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران جنتر-منتر پہنچے، جن میں کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی بھی شامل تھے۔

جنتر منتر پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی
جنتر منتر پر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی ویپن/قومی آواز

پیگاسس جاسوسی معاملہ اور زرعی قوانین کے خلاف اپوزیشن پارٹیاں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں مقامات پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی ہوئی اور حملہ کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اسی ضمن میں آج زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کر رہے کسانوں کی حمایت میں تقریباً 14 اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران جنتر منتر پہنچے۔ ان لیڈران میں کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی بھی شامل رہے۔ انھوں نے جنتر-منتر پر کسانوں کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور ’سیو فارمرس، سیو انڈیا‘ (کسان بچاؤ، ہندوستان بچاؤ) کا نعرہ بھی بلند کیا۔ اپوزیشن پارٹیوں کے اس مظاہرہ میں کانگریس، این سی پی، شیو سینا، سماجوادی پارٹی، ڈی ایم کے، آر جے ڈی سمیت بایاں محاذ کے کئی لیڈران شامل ہوئے۔

Published: undefined

یہاں قابل ذکر ہے کہ جنتر-منتر پر ان دنوں کسانوں نے ’کسان پارلیمنٹ‘ منعقد کیا ہوا ہے۔ یہ کسان نئے زرعی قوانین کے خلاف 11 بجے سے لے کر 5 بجے تک جنتر منتر پر کسانوں کی پارلیمنٹ لگاتے ہیں اور مرکزی حکومت سے اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Published: undefined

بہر حال، آج جنتر منتر پر پہنچے راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ پورا اپوزیشن کسانوں کی حمایت میں پارلیمنٹ سے جنتر منتر آیا ہے، یہاں پر اپوزیشن لیڈران ہندوستان کے سبھی کسانوں کو اپنی پوری حمایت دینے پہنچے ہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کو ان تینوں سیاہ قوانین کو رد کرنا ہی ہوگا، اس پر بحث و مباحثہ سے کام نہیں چلنے والا ہے۔

Published: undefined

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پارلیمانی کارروائی کے تعلق سے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں کیا ہو رہا ہے، یہ آپ جانتے ہیں؟ پارلیمنٹ میں ہم پیگاسس پر بحث کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس پر بحث نہیں ہو رہی ہے۔ نریندر مودی نے ملک بھر میں سبھی کے فون میں پیگاسس بھر دیا ہے۔‘‘ جنتر منتر پر آج مودی حکومت کے خلاف ہوئے مظاہرے میں راہل گاندھی کے علاوہ ملکارجن کھڑگے، سنجے راؤت، منوج جھا، کے ٹی شیوا سمیت کئی لیڈران موجود تھے ہوئے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined