ایک طرف ٹرمپ نے کہا ’دنیا کو برباد نہیں ہونے دوں گا‘، دوسری طرف ایران نے ظاہر کیا ’ہر موت کا بدلہ‘ لینے کا عزم
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل پروڈیوسر ہے، اس لیے تیل کی قیمتیں بڑھنے پر ہمیں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم ایشو ایران کو نیوکلیائی اسلحہ بنانے سے روکنا ہے۔

امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر حملہ اور ایران کے ذریعہ جوابی حملہ کا دور ہنوز جاری ہے۔ حالات دن بہ دن کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور عالمی سطح پر اس کے مضر اثرات صاف دکھائی دینے لگے ہیں۔ کئی ممالک میں ایندھن کے ساتھ ساتھ دیگر اشیا کی مہنگائی بھی بڑھ چکی ہے۔ اس درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’میں دنیا کو برباد نہیں ہونے دوں گا۔ ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے دیں گے۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’’امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل پروڈیوسر ملک ہے، اس لیے تیل کی قیمتیں بڑھنے پر ہمیں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن صدر کی شکل میں میرے لیے اس سے کہیں زیادہ اہم ایشو ایران کو نیوکلیائی اسلحہ بنانے سے روکنا اور مشرق وسطیٰ کو بحران سے بچانا ہے۔ میں ایران کو کبھی نیوکلیائی اسلحہ نہیں بنانے دوں گا۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے سبب عالمی تیل فراہمی پر گہرا بحران منڈلا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ بحران کے درمیان ایران نے آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اعلان ایک بار پھر کر دیا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند رہے گا اور ہر موت کا بدلہ لیا جائے گا۔ مجتبیٰ کے اس بیان سے پوری دنیا ایک طرح کے خوف میں مبتلا ہو گئی ہے۔
نئے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ’’ہم کسی کی شہادت کو نہیں بھولیں گے۔ ایران کے لوگوں کے خون کا بدلہ لیں گے۔ ہم ہر بچے کی موت کا بدلہ لیں گے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انھوں نے پڑوسی ممالک سے کہا ہے کہ وہ اپنی زمین سے امریکہ کو ہٹائیں، کیونکہ ہم مشرق وسطیٰ میں سبھی امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملے کریں گے۔ مجتبیٰ نے مضبوط عزم کے ساتھ کہا کہ ’’ہم اپنے شہیدوں، خاص کر میناب کے شہیدوں کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے۔‘‘ اس دوران انھوں نے ایرانی فوج کی تعریف بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایرانی فوج مضبوطی سے اپنے ملک کی حفاظت کر رہی ہے اور دشمنوں کے حملوں کا جواب دے رہی ہے۔‘‘ امریکی و اسرائیلی حملوں کا شکار ہوئے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ان کے صبر کی دعا کی۔ ساتھ ہی لوگوں کو یقین دلایا کہ ہر ایرانی شہید کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔
خلیجی ممالک میں کیے گئے حملوں پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ’’ایران پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے رشتے چاہتا ہے۔ اس نے اپنے پڑوسیوں پر حملہ نہیں کیا ہے، بلکہ ان ممالک میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، کیونکہ دشمن ان علاقوں سے ایران پر حملہ کر رہا تھا۔ ہم دشمن سے نقصان کا ازالہ بھی کریں گے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’دشمن نقصان کا ازالہ نہیں کرے گا تو ہم جتنا ضروری سمجھیں گے، اس کی جائیداد پر قبضہ کریں گے۔ اگر یہ ممکن نہیں ہوا تو ہم دشمن کی اتنی ہی جائیداد تباہ کر دیں گے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔