
’ہم بدلیں گے‘ مہم کا آغاز کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ورون چودھری، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
آسام: ’نیشنل اسٹوڈنٹس آف انڈیا‘ (این ایس یو آئی) کے قومی صدر ورون چودھری نے آج بونگائی گاؤں میں ’ہم بدلیں گے‘ مہم کا آغاز زوردار نغمہ ’چھاتر ہی لائیں گے پریورتن‘ (طلبا ہی لائیں گے تبدیلی) کے ساتھ کیا۔ یہ مہم آسام میں بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کے خلاف طلبا اور نوجوانوں کو یکجا کرنے کی سمت میں ایک نتیجہ خیز قدم ہے۔
Published: undefined
اس ریاست گیر تحریک کے تحت این ایس یو آئی آسام یونٹ 30 سے زائد اضلاع کا دورہ کرے گی، جہاں طلبا اور نوجوانوں سے براہ راست گفت و شنید کر کے ان کے مستقبل سے متعلق اہم ایشوز کو سامنے لایا جائے گا۔ مہم میں ’این ای پی‘ (نئی تعلیمی پالیسی) کی لسانی پالیسی، بھرتی گھوٹالہ، اعلیٰ تعلیمی نظام کی بدحالی اور اسکولوں کے بند ہونے اور ڈراپ آؤٹس کی بڑھتی شرح جیسے موضوع خاص طور سے شامل ہوں گے۔
Published: undefined
’ہم بدلیں گے‘ کا آغاز کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے این ایس یو آئی قومی صدر ورون چودھری نے کہا کہ ہیمنت بسوا سرما کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں آسام کی امیدوں کو کچل دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’حکومت شدید بدعنوانی میں ملوث ہے، جبکہ طلبا مایوسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کالجوں کا بنیادی ڈھانچہ مخدوش ہو چکا ہے اور روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم بدلیں گے‘ مہم کے ذریعہ این ایس یو آئی آسام کے ہر گوشے میں طلبا تک پہنچے گی، ان کی تکلیف کو سنے گی اور اسے ’آسام 2026‘ کے لیے ایک اجتماعی نظریہ میں بدلے گی۔
Published: undefined
این ایس یو آئی نے آسام کے مستقبل کے لیے اپنا واضح نظریہ بھی تقریب میں سامنے رکھا، جو 3 نکات پر مشتمل ہے:
مضبوط سرکاری اسکول اور کالجوں کا مضبوط بنیادی ڈھانچہ
شفاف اور گھوٹالہ سے پاک عوامی بھرتی عمل
روزگار کے مواقع اور صنعت کے لیے مضبوط ماحول
این ایس یو آئی قیادت کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے جب آسام کی بدعنوان بی جے پی حکومت کو اقتدار سے ہٹایا جائے اور تعلیم و روزگار کے ساتھ ساتھ بہتر حکمرانی کو ترجیح دینے والی حقیقی، طلبا کی قیادت والی تبدیلی لائی جائے۔ این ایس یو آئی نے طلبا کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہنے، ان کی آواز کو بلند کرنے اور آسام کے لیے ایک ترقی پذیر و انصاف پر مبنی مستقبل کے لیے مستقل جدوجہد کرنے سے متعلق اپنے عزائم بھی ظاہر کیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined