قومی خبریں

'پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہیں جائے گا‘، ہندوستانی منصوبے سے گھبرائے پاکستانی ماہر نے دی وارننگ

آبی وسائل کے وزیر سی آر پاٹل کے بیان سے گھبرائے پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ہندوستان کو جنگ کی دھمکی تک دے دی۔ آصف نے کہا کہ اگر ہمیں لگے گا کہ ہماری قومی سلامتی کو خطرہ ہے تو ہم جنگ کریں گے۔

<div class="paragraphs"><p>سندھ آبی معاہدہ</p></div>

سندھ آبی معاہدہ

 

اپریل 2025 میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کئے جانے کو پاکستان کے لیے بہت بڑا جھٹکا مانا گیا تھا۔ 6 دہائیوں میں 3 جنگوں کے بعد بھی ہندوستان نے کبھی اس معاہدے پر روک نہیں لگائی تھی۔ ہندوستان کی جانب سے معاہدہ روکے جانے کے بعد سے ہی پاکستان اس کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہا ہے۔ اس دوران ہندوستان نے کچھ ایسا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس سے پاکستان میں کھلبلی مچ گئی ہے۔

Published: undefined

حال ہی میں ہندوستان کے آبی وسائل کے وزیر سی آر پاٹل نے ایک بیان میں کہا کہ جون 2028 تک پاکستان کی طرف جانے والا پانی بند ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات پر کام چل رہا ہے کہ پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہ جانے پائے۔ اس بیان سے گھبرائے پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ہندوستان کو جنگ کی دھمکی تک دے دی۔ آصف نے کہا کہ اگر ہمیں لگے گا کہ ہماری قومی سلامتی کو خطرہ ہے تو ہم جنگ کریں گے۔

Published: undefined

پاکستانی ماہر کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا یہ مؤقف صرف سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ بین الاقوامی رواج، قوانین اور انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ پاکستان میں ہائیڈرولوجی کے ماہر حسن عباس نے ہندوستان کے اس قدم کو انتہائی خطرناک بتایا ہے۔ پاکستانی اخبار ’ڈان‘ میں لکھے ایک مضمون میں ڈاکٹر عباس نے کہا کہ پاکستان کے پنجاب اور سندھ اپنی 90 فیصد فصلوں کے لیے دریائے سندھ کے پانی  پر منحصر ہیں۔ یہ پاکستان کے 22 کروڑ لوگوں کی زندگی کا سہارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچانک پانی روکنے سے غذائی تحفظ، دیہی آمدنی اور آبی وسائل کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

Published: undefined

پاکستانی ماہر عباس نے ہندوستان کے جارحانہ موقف کا مقابلہ کرنے کے لیے قانونی ناکہ بندی کی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آبی جارحیت کا جواب 4 پلیٹ فارمز پر قانونی گھیرا بندی کے ذریعے دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آئی ڈبلیو ٹی کے آرٹیکل آئی ایکس کا استعمال کرکے ’انیکسر جی‘ ایک ثالثی عدالت قائم کرنا چاہئے۔ انہوں نے پانی کی بندش والے فارمولے کو آرٹیکل (2)III کی خلاف ورزی قرار دیا۔

Published: undefined

اس گھیرا بندی کا مقصد ثالثی عدالت میں معاہدے کی تعمیل، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں انفرادی جوابدہی، بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں ملک کی ذمہ داری اور یو این ایچ آر سی میں انسانی حقوق کا تحفظ ہونا چاہئے۔ پاکستانی ماہر نے دلیل دی کہ معاہدے کے طریقہ کار پر سختی سے عمل کرنا ہی کشیدگی بڑھنے سے روکنے کے لیے سب سے بہترین دفاع ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined