پاکستان سرحد پار دہشت گردی بند کرے، تبھی سندھ طاس معاہدہ بحال ہوگا: ہندوستان

ہندوستان نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے مکمل اور قابل اعتماد خاتمے تک سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا۔ نئی دہلی نے پاکستان کے اعتراضات اور ثالثی عدالت کے فیصلوں کو بھی مسترد کر دیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نئی دہلی: ہندوستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کے مکمل اور قابل اعتماد خاتمے تک سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا۔ وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ معاہدے کی بحالی کا انحصار پاکستان کے رویے میں مستقل اور قابل اعتماد تبدیلی پر ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے نئی دہلی میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران یہ موقف دہرایا۔ ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے چناب۔بیاس لنک سرنگ منصوبے اور سلال ڈیم کے ذخیرے سے گاد نکالنے کے ہندوستانی منصوبوں پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ ہندوستان پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر رکھا ہے اور یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات صرف اعلانات تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ان کے عملی اور پائیدار نتائج بھی نظر آنے چاہئیں۔

جموں و کشمیر کے دورے پر موجود سوئٹزرلینڈ کے سفیر کے بارے میں پاکستان کے تبصروں پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور کسی بھی ملک کے سفیر کو وہاں جانے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔


ہندوستان نے گزشتہ ماہ بھی سندھ طاس معاہدہ 1960 کے تحت قائم کی گئی مبینہ ثالثی عدالت کے ایک فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی اور بے اثر قرار دیا تھا۔ وزارت خارجہ کے مطابق 15 مئی 2026 کو جاری کیا گیا فیصلہ معاہدے کی تشریح اور آبی ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت سے متعلق تھا، تاہم ہندوستان اس پورے عدالتی عمل کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے کبھی اس نام نہاد ثالثی فورم کے قیام کو قانونی حیثیت نہیں دی، اس لیے اس کے فیصلے، احکامات اور کارروائیاں ہندوستان کی نظر میں کوئی قانونی اہمیت نہیں رکھتیں۔

واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدے پر 19 ستمبر 1960 کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دستخط ہوئے تھے۔ یہ معاہدہ دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ دریاؤں کے پانی کے استعمال اور تقسیم کے اصول طے کرتا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد اس نے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے خودمختار حقوق استعمال کرتے ہوئے معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ جب تک پاکستان دہشت گردی کی حمایت کو مستقل اور قابل اعتماد انداز میں ختم نہیں کرتا، اس وقت تک معاہدے کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔