مغربی کناڈا میں تیزی سے پھیل رہی ہے جنگل کی آگ، 20 ہزار سے زائد افراد گھر چھوڑنے پر مجبور

برٹش کولمبیا کی اوکاناگن جھیل کے کنارے آباد شہروں کی طرف بڑھ رہی ہے، گھروں اور عمارتوں کو تباہ کر رہی ہے۔ اس وجہ سے 20000 سے زیادہ لوگوں کو راتوں رات اپنے گھر چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

مغربی کناڈا میں جنگل کی آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آگ اتنی ہولناک ہے کہ یہ برٹش کولمبیا کی اوکاناگن جھیل کے کنارے آباد شہروں کی طرف بڑھ رہی ہے، گھروں اور عمارتوں کو تباہ کر رہی ہے۔ اس وجہ سے 20,000 سے زیادہ لوگوں کو راتوں رات اپنے گھر چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ سمرلینڈ کی پوری کمیونٹی کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں تقریباً 12,000 لوگ رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پیچلینڈ اور اس کے آس پاس کے تقریباً 8,000 لوگوں کو بھی علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ حکام اب تک یہ معلوم نہیں کر سکے ہیں کہ اس آگ میں کتنے گھروں کو نقصان پہنچا۔

بالڈ رینج جنگل کی آگ کی خبر سب سے پہلے جمعہ کی شام کو ملی تھی، لیکن کچھ ہی گھنٹوں میں یہ تقریباً 50 مربع کلومیٹر (19 مربع میل) تک پھیل گئی۔ فالڈر کی چھوٹی کمیونٹی بھی اس ہولناک آگ کی زد میں آ گئی ہے اور یہ سمرلینڈ تک تقریباً 15 کلومیٹر (9 میل) کے راستے تک پھیلی ہے۔ اوکاناگن-سمیلکامین علاقائی ضلع کے ہنگامی خدمات کے افسر ایرک تھامسن نے اسے اس علاقے کی سب سے تیزی سے پھیلنے اور بڑھنے والی جنگل کی آگ میں سے ایک قرار دیا۔ تھامسن کو ایمرجنسی آپریشن سنٹر چھوڑنا پڑا اور اپنے خاندان کو وہاں سے نکالنا پڑا۔ انہوں نے ہفتے کی صبح اپنی گاڑی سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’’مجھے ای او سی چھوڑ کر اپنے خاندان کو اس علاقے سے ریسکیو کرنے کے لیے آنا پڑا۔ ہم جنوب کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ کناڈا نے حالیہ برسوں میں جنگل کی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرناک موسم کا سامنا کیا ہے۔ اس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو نکالنا پڑا اور کناڈا اور امریکہ کے بڑے حصوں میں بار بار دھواں پھیل رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں کئی گھر جلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ لوگ دونوں طرف آگ کے شعلوں سے خود کو بچاتے ہوئے بھاگ رہے تھے۔ ایک گھر کی مالکن کیری گولڈ اور ان کے شوہر مائیک ایلسنگا قریبی پہاڑوں سے آگے آگ کے شعلے پھیلتے دیکھ کر رات تقریباً 12:30 بجے بھاگ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ خوفناک ہے۔ یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔