
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
نئی دہلی: آمدن سے زیادہ اثاثہ جات کے معاملے میں شرومنی اکالی دل (ایس اے ڈی) کے رہنما اور سابق وزیر بکرم سنگھ مجیٹھیا کو فی الحال سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی۔ عدالت عظمیٰ میں ان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران حکومت نے اپنا جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت طلب کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 2 فروری کو ہوگی۔
Published: undefined
سماعت کے دوران عدالت نے اس نکتے پر بھی سوال اٹھایا کہ آیا مجیٹھیا کو جیل میں کسی قسم کا خطرہ لاحق ہے یا نہیں۔ عدالت نے اس پہلو پر وضاحت طلب کی اور کہا کہ آئندہ سماعت پر اس پہلو سمیت عبوری ضمانت کی درخواست پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ مجیٹھیا کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت سے عبوری ضمانت دینے کی اپیل کی، جس پر عدالت نے واضح کیا کہ وہ اگلی تاریخ پر اس مطالبے پر فیصلہ کرے گی۔
Published: undefined
واضح رہے کہ بکرم سنگھ مجیٹھیا کو 25 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد امرتسر میں واقع ان کی رہائش گاہ سمیت پچیس دیگر مقامات پر ویجیلنس ٹیم نے چھاپے مارے تھے۔ ان کارروائیوں کے دوران ڈیجیٹل آلات، جائیداد سے متعلق دستاویزات اور مالی ریکارڈ ضبط کیے گئے۔ اگلے دن یعنی 26 جون کو انہیں 7 دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیجا گیا، جسے بعد میں چار دن کے لیے مزید بڑھا دیا گیا۔ 6 جولائی سے وہ عدالتی حراست میں ہیں اور اس وقت نابھا جیل میں بند ہیں۔
Published: undefined
ویجیلنس محکمے نے 22 اگست کو اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی، جو 40 ہزار صفحات سے زائد پر مشتمل ہے۔ چارج شیٹ میں دو سو سے زیادہ گواہوں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں۔ یہ کیس بنیادی طور پر 2013 کی اس جانچ سے جڑا ہوا ہے، جس میں چھ ہزار کروڑ روپے کے ایک مصنوعی منشیات ریکیٹ کا انکشاف ہوا تھا۔ اس وقت سابق ڈی ایس پی جگدیش سنگھ بھولا نے اپنی جانچ میں مجیٹھیا کا نام لیا تھا۔
Published: undefined
تاہم، منشیات سے متعلق الزامات کو بعد میں عدالت نے خارج کر دیا تھا۔ موجودہ معاملہ بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے الزامات پر مرکوز ہے۔ چارج شیٹ کے مطابق مجیٹھیا کے تقریباً سات سو کروڑ روپے کے اثاثے غیر قانونی اور بے بنیاد قرار دیے گئے ہیں۔ پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش، اتر پردیش اور دہلی میں پندرہ مقامات کی جانچ کے بعد یہ رپورٹ تیار کی گئی۔ ویجیلنس کا کہنا ہے کہ اس نے مقررہ وقت کے اندر چارج شیٹ داخل کی ہے اور تفتیش مکمل طور پر قانونی طریقے سے انجام دی گئی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined