کرنل صوفیہ قریشی معاملہ: ’اب تک وزیر کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری کیوں نہیں دی؟‘ سپریم کورٹ کا مدھیہ پردیش حکومت سے سوال
سماعت کے دوران سی جے آئی نے براہ راست سوال کیا کہ ’’کیا ہم یہ صحیح سمجھ رہے ہیں کہ ایس آئی ٹی نے ریاستی حکومت سے کارروائی کے لیے اجازت طلب کی ہے اور حکومت اب تک اس پر خاموش بیٹھی ہوئی ہے؟‘‘

’آپریشن سندور‘ کے دوران کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض تبصرہ معاملہ میں مدھیہ پردیش کے بی جے پی وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف تحقیقات مکمل ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک مقدمہ چلانے کی منظوری نہ دینے پر سپریم کورٹ نے سخت سوال اٹھائے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کی قیادت والی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اگست 2025 میں ہی تحقیقات مکمل کر لی تھی اور ریاستی حکومت سے استغاثہ (مقدمہ چلانے) کی اجازت طلب کی گئی تھی، لیکن اب تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔ عدالت نے اسے سنگین معاملہ بتاتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت فیصلے کرے۔
سماعت کے دوران سی جے آئی نے براہ راست سوال کیا کہ ’’کیا ہم یہ صحیح سمجھ رہے ہیں کہ ایس آئی ٹی نے ریاستی حکومت سے کارروائی کے لیے اجازت طلب کی ہے اور حکومت اب تک اس پر خاموش بیٹھی ہوئی ہے؟‘‘ عدالت میں موجود ایس آئی ٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ انہیں اب ڈی آئی جی انٹیلی جنس کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں 2 پرانے معاملوں کا بھی ذکر ہے، ان میں یکم نومبر 2020 کا اور دوسرا اس سے قبل کا ہے۔ حالانکہ ان معاملوں کو موجودہ تحقیقات میں شامل نہیں کیا گیا۔
سی جے آئی نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقت کی کمی کی وجہ سے اگر ان معاملوں کو چھوڑا گیا ہے تو ایس آئی ٹی کو امید ہے کہ وہ ان الزامات کی بھی تحقیقات مکمل کرے گی۔ عدالت نے یہ بھی ریکارڈ کیا کہ ایس آئی ٹی کی تشکیل خود سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہوئی تھی اور مکمل رپورٹ مہر بند لفافے میں عدالت کو سونپی گئی ہے۔ رپورٹ کے پیرا 10.2 میں کچھ پرانے بیانوں کا ذکر ہے، جنہیں فی الحال باہر رکھا گیا۔ ایس آئی ٹی نے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 217 کے تحت ریاستی حکومت کو رپورٹ بھیج کر استغاثہ کی پیشگی اجازت طلب کی تھی، جو کسی وزیر کے خلاف عدالت کے ذریعہ نوٹس لینے کے لیے ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ریاستی حکومت کو قانون کے مطابق استغاثہ کی منظوری دینے یا نہ دینے پر فیصلہ کرنا ہی ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی عدالت نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ 2 ہفتے کے اندر استغاثہ کی منظور پر فیصلہ لے کر اپنی تعمیلی رپورٹ داخل کرے۔ اس کے ساتھ ہی ایس آئی ٹی کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رپورٹ میں بتائے کہ دیگر پرانے معاملوں کی بھی تحقیقات کر رپورٹ سونپے۔ معاملہ کی آئندہ سماعت اب ریاستی حکومت کی تعمیلی رپورٹ اور ایس آئی ٹی کی اضافی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ مئی 2025 میں ’آپریشن سندور‘ کے بعد کرنل صوفیہ قریشی سرخیوں میں آئی تھیں۔ 11 مئی 2025 کو اندور کے پاس ایک جلسۂ عام میں وزیر کنور وجے شاہ نے متنازعہ تبصرے کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’دہشت گردیوں نے ہماری بہنوں کا سندور مٹایا۔ مودی جی نے ان کی بہن کو بھیج کر انہیں سبق سکھایا۔ انہوں نے ہمارے ہندوؤں کو بے عزت کیا، مودی جی نے ان کی ہی ایک بہن کو ان کے گھروں میں مارنے کے لیے بھیج دیا۔‘‘ تنازعہ بڑھنے کے بعد وزیر نے معافی مانگی تھی۔ معاملہ سپریم کورٹ پہنچا، جہاں عدالت نے وجے شاہ کی آن لائن معافی کو ناکافی اور ’مگرمچھ کے آنسو‘ قرار دیا تھا۔ عدالت نے اسے قومی شرمندگی قرار دیتے ہوئے ایس آئی ٹی کی جانچ کا حکم دیا تھا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔