
آئی اے این ایس
نئی دہلی: پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت نے ایل پی جی سلنڈر کی ری فل بُکنگ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بُکنگ کی مدت میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور پہلے سے جاری نظام ہی نافذ العمل ہے۔
Published: undefined
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پردھان منتری اُجولا یوجنا کے تحت صارفین کے لیے 45 دن، جبکہ نان اُجولا سنگل سلنڈر کنکشن کے لیے 25 دن اور ڈبل سلنڈر کے لیے 35 دن کی نئی مدت مقرر کی گئی ہے۔ وزارت نے ان تمام دعووں کو بے بنیاد اور حقیقت کے منافی قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق موجودہ اصولوں کے تحت ایل پی جی ری فل بُکنگ کی مدت شہری علاقوں میں 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن ہی ہے، اور یہی اصول تمام اقسام کے کنکشن پر یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے کسی نئی پالیسی یا ترمیم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
Published: undefined
وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور نہ ہی انہیں آگے پھیلائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ گھبراہٹ میں غیر ضروری طور پر گیس سلنڈر کی بُکنگ کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک میں ایل پی جی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی قسم کی قلت کی صورتحال نہیں ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام ریفائنریاں اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور سپلائی کا نظام پوری طرح مستحکم ہے۔
Published: undefined
پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت کی مشترکہ سکریٹری سجاتا شرما کے مطابق ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کا بھی خاطر خواہ ذخیرہ دستیاب ہے اور ایک لاکھ سے زائد پٹرول پمپ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پائپڈ نیچرل گیس کنکشن میں بھی تیزی سے اضافہ کیا جا رہا ہے اور ایک ہی دن میں ہزاروں نئے کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی سپلائی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں اور مختلف ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نگرانی کے نظام کو بہتر بنائیں تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined