
فائل تصویر آئی اے این ایس
الہ آباد ہائی کورٹ نے کل یعنی2 فروریکو ایک اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی فرد یا برادری کو اپنے نجی احاطے میں مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کے لیے ریاستی حکومت یا انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ حق ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ضمانت دیے گئے بنیادی حقوق کا حصہ ہے، جسے عام حالات میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔
Published: undefined
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی ہے۔ جب کوئی مذہبی سرگرمی مکمل طور پر نجی ملکیت میں اور پرامن طریقے سے کی جاتی ہے، تو قانون کے دائرہ کار میں اجازت پر مجبور کرنا مناسب نہیں ہے۔ ایسے معاملات میں انتظامی مداخلت آئین کی بنیادی روح کے منافی ہو گی۔
Published: undefined
تاہم، عدالت نے واضح کیا کہ یہ آزادی صرف اس صورت میں درست ہے جب مذہبی اجتماعات مکمل طور پر نجی احاطے میں منعقد ہوں۔ اگر اجتماع کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کا اثر کسی عوامی علاقے میں پھیلتا ہے، یا اس سے امن عامہ، امن یا ٹریفک میں خلل پڑتا ہے تو انتظامیہ ضروری کارروائی کر سکتی ہے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ عوامی مقامات پر کسی بھی مذہبی اجتماع، تقریب یا جلوس کے انعقاد سے قبل متعلقہ پولیس یا انتظامیہ کو پیشگی اطلاع دینا لازمی ہے۔ عوامی اجتماعات کے دوران امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور اس لیے ایسے معاملات میں ضابطوں کی پابندی ضروری ہے۔
Published: undefined
یہ فیصلہ نجی جگہوں پر نماز کے اجتماعات کے انعقاد پر انتظامی اعتراض کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے دوران آیا۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ نجی املاک پر پرامن مذہبی سرگرمیوں پر پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے اس دلیل سے اتفاق کرتے ہوئے انتظامی کارروائی کو بلا جواز قرار دیا۔
Published: undefined
اس فیصلے کو مذہبی آزادی سے متعلق مستقبل کے مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ نجی زندگی اور نجی املاک میں آئین کی طرف سے فراہم کردہ حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے، بشرطیکہ وہ عوامی امن و امان میں خلل نہ ڈالیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined