
مرکزی وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے بجٹ سے متعلق ایک روایت کو توڑ دیا ہے۔ سیتارمن نے بریف کیس لے کر بجٹ پیش کرنے پارلیمنٹ پہنچنے کو ترجیح نہیں دی اور وہ لال رنگ کا مخملی بستہ (پیکٹ) لے کر وہاں پہنچیں۔ انھوں نے پرانی روایت کو پوری طرح سے مسترد کر دیا اور بی جے پی نے اسے بجٹ نہیں بلکہ ’بہی کھاتہ‘ قرار دیا۔
دراصل ہر بار وزیر مالیات بریف کیس میں بجٹ کے دستاویز لے کر آتے ہیں، لیکن اس بار سیتا رمن لال کپڑے میں لپٹا بہی کھاتہ لے کر پہلے صدر جمہوریہ سے ملنے پہنچیں اور پھر پارلیمنٹ گئیں۔ اس لال بستہ پر ہندوستان کا قومی نشان بنا ہوا تھا اور اسے لال و پیلے ریبن سے باندھا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ سالوں سے وزیر مالیات کے ذریعہ بریف کیس کا استعمال ہوتا رہا، حالانکہ اس کا رنگ کئی بار بدلا۔ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے 1991 میں ایک خاص تبدیلی والا بجٹ پیش کیا تھا تو کالا بیگ لے کر پارلیمنٹ پہنچے تھے۔ جواہر لال نہرو، یشونت سنہا بھی کالا بیگ لے کر ہی بجٹ پیش کرنے پہنچے تھے، جب کہ پرنب مکھرجی لال بریف کیس کے ساتھ پہنچے تھے۔ سابق وزیر مالیات ارون جیٹلی کے ہاتھوں میں براؤن اور ریڈ بریف کیس نظر آیا تھا۔ اس سال عبوری بجٹ پیش کرنے والے کارگزار وزیر مالیات پیوش گویل جب بجٹ پیش کرنے ایوان میں پہنچے تھے تو ان کے ہاتھوں میں لال رنگ کا بریف کیس تھا۔
بریف کیس سے جڑی خاص باتیں...
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔