
بس حادثہ کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ خوفناک بس حادثات نے جہاں کئی لوگوں کی جان لے لی ہے وہیں عام مسافروں کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات بھی کھڑے کر دئے ہیں اور بس میں سفر کرنے والے لوگ خوف زدہ ہیں۔ ان حالات میں قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ہفتہ کو تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کو حفاظتی معیارات کی خلاف ورزی کرنے والی سلیپر کوچ بسوں کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ این ایچ آر سی کی اس بنچ کی سربراہی پریانک قانونگو کر رہے ہیں۔
Published: undefined
بیچ میں ایک شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کے ڈیزائن میں خامیاں مسافروں کی جان کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ شکایت کنندہ کی جانب سے بتایا گیا کہ کچھ بسوں میں ڈرائیور کا کیبن مسافروں سے بالکل الگ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہنگامی صورت حال میں وقت پر آگ کا پتہ لگانا اور اس کی اطلاع دینا مشکل ہوتا ہے۔
Published: undefined
شکایت میں حالیہ ان واقعات کا ذکر کیا گیا ہے جس میں مسافر بسوں میں دوران سفر آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں کئی لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے گاڑیوں کے مینوفیکچررز اور منظوری دینے والے افسران کی جانب سے نظامی غفلت کی نشاندہی ہوتی ہے۔
Published: undefined
شکایت میں حفاظتی ڈیزائن کو بہتر بنانے، جوابدہی طے کرنے اور متاثرہ اور ان کے خاندانوں کے لیے معاوضے کو یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کی مانگ کی گئی ہے۔ پریانک قانونگو کی سربراہی میں قومی انسانی حقوق کمیشن کی بنچ نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔
شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پریانک قانونگو نے سکریٹری، روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز، حکومت ہند اور سینٹرل روڈ ٹرانسپورٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں شکایت میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرنے اور دو ہفتوں کے اندر کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
Published: undefined
اس معاملے میں پہلے کمیشن کی ہدایت کے مطابق سینٹرل روڈ ٹرانسپورٹ انسٹی ٹیوٹ نے ایکشن رپورٹ پیش کی تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ راجستھان میں ہونے والے حادثے کی تحقیقات میں بس کے ڈیزائن میں خامیاں سامنے آئی ہیں جو سینٹرل موٹر وہیکل رولز (سی ایم وی آر) کے تحت مقررہ حفاظتی معیارات کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined