چابہار پورٹ منصوبہ علاقائی رابطوں کے لیے انتہائی اہم، ہندوستان کے حوالے سے تعاون بڑھانے پر زور

ایرانی سفیر نے ہندوستان کے ساتھ دوستی اور روایتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران یقیناً امن کا حامی ہے لیکن اگر کسی نے اسے للکارنے کی کوشش کی تو اس کا انجام بھگتنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

چابہار پورٹ منصوبہ کو علاقائی رابطوں کے لیے انتہائی اہم بتاتے ہوئے صاف طور پرکہا کہ اس منصوبے کے حوالے سے ہندوستان اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید بڑھایا جانا چاہیے۔ نئی دہلی میں ایران کے سفیر نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب چابہار بندرگاہ کے حوالے سے امریکی پابندی کی پالیسیوں میں حال میں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ اس طرح اس منصوبے کے مستقبل اور ہندوستان کی شراکت داری پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

جمعہ کے روز نئی دہلی واقع سفارت جمہوریہ اسلامی میں پریس کانفرنس کے دوران ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا کہ چابہار بندرگاہ تزویراتی اور اقتصادی لحاظ سے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بندرگاہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا اہم اور بڑا راستہ بن سکتی ہے۔ ایران کا خیال ہے کہ اس منصوبے پر ہندوستان کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہونے چاہئیں۔


ڈاکٹر فتح علی نے کہا کہ چابہار کا علاقائی تجارت اور رابطوں کو بڑھانے میں اہم کردار ہے۔ چابہار پورٹ پروجیکٹ کا تصور افغانستان کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کو ذہن میں رکھ کر کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ہندوستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی راستے کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ راستہ پاکستان کوایک طرف چھوڑتے ہوئے براہ راست رابطہ فراہم کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ہندوستان کے لئے یہ منصوبہ اسٹریٹجک لحاظ سے اہم مانا جاتا ہے۔ پورٹ کے ذریعے کارگو کی نقل وحمل اورعلاقائی تجارت کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔

ایرانی سفیر نے ہندوستان کے ساتھ دوستی اور روایتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے دشمنوں کو وارننگ بھی دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران یقیناً امن کا حامی ہے لیکن اگر کسی نے اسے للکارنے کی کوشش کی تواس کا انجام بھگتنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی قسم کی جنگ نہیں چاہتے لیکن ہر آپشن کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔


ایرانی سفیرکا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے اسرائیل، امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن طیاروں سے لدا ہوا ایران کے آس پاس منڈرا رہا ہے۔ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ ہم پوری طرح تیار ہیں۔ ڈاکٹر فتح علی کے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کسی بھی فوجی یاسفارتی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے۔

اس دوران ایرانی سفیر نے ہندوستان کے ساتھ ملک کے تاریخی اور تزویراتی تعلقات پربھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چابہار پورٹ دونوں ممالک کے لیے گیم چینجر ہے۔ چابہار انتہائی اہم منصوبہ ہے، یہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ سفیر نے زور دے کر کہا کہ ایران کا خیال ہے کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دی جانی چاہیے۔ یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی ممالک کی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود ایران ہندوستان کو اپنا سب سے قابل اعتماد پارٹنر سمجھتا ہے۔ایرانی سفیر کے اس بیان کو امریکہ جیسے ممالک کے لیے سخت پیغام کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔