.jpg?rect=0%2C0%2C2000%2C1125)
ایل پی جی سلنڈروں کی قلت کے درمیان نئی شرط لاگو کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) نے ایک نیا عمل متعارف کرایا ہے۔ جس کے بعد اب کوٹے سے زیادہ سلنڈر لینا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی ضرورت کی وضاحت کرنی ہوگی۔ گھر میں شادی ہے یا بھنڈارا، خاندان کے ممبران اور آنے والے مہمانوں کی بھی تفصیل فراہم کرنی ہوں گی۔
Published: undefined
نئے اصول کے مطابق جن صارفین نے سالانہ کوٹے کے 12 سلنڈر حاصل کرلیے ہیں انہیں نئی بکنگ کے لیے’ ہیلو بی پی سی ایل‘ ایپ پر جاکر سوالات کے جوابات دینے ہوں گے۔ خاندان کے ارکان کی تعداد، آنے والے مہمانوں کی تفصیل، گھر میں شادی، بھنڈارا یا کسی دوسرے پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی۔ تبھی سلنڈر بک ہو گا۔
Published: undefined
اتوار کے روز سے نافذ ہونے والے اس اصول کی اطلاع گیس ایجنسی آپریٹروں اور صارفین کو بھی نہیں تھی۔ صبح سے ہی موبائل فون کے ذریعے بکنگ کی کوشش کر رہے لوگ ناکام ہونے پر گیس ایجنسی پہنچے۔ ایجنسی پر موجود عملے کو بھی اس کی جانکاری نہیں تھی۔ آپریٹر نے کمپنی کے افسران کو کال کی تو اس نئے عمل کے بارے میں پتا چلا۔
Published: undefined
آل انڈیا ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے ریاستی سکریٹری آدرش گپتا کے مطابق صارفین ایک مالی سال میں 12 سلنڈر لے سکتے ہیں۔ بہت سے صارفین کا کوٹہ پورا ہوچکا ہے۔ اس لیے بی پی سی ایل کے نئے رہنما خطوط کے تحت اب صارفین کو بکنگ کے لیے موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا ہوگا۔ سلسلہ وار سوالات کے جوابات دینے ہوں گے۔ اس کے بعد ہی بکنگ ہوگی۔
Published: undefined
غورطلب ہے کہ اسمارٹ فونز کے دور میں بھی کئی شہری اور دیہی صارفین کی پیڈ والا فون ہی استعمال کرتے ہیں۔ کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو اسمارٹ فون خرید نہیں سکتے ہیں۔ ایسے صارفین کو کوٹے کے علاوہ گیس بلنگ کے لیے فون خریدنا، ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے سوالات کے جوابات دینا مشکل ہوگا۔ ایسی صورت میں وہ گھر بیٹھے ایل پی جی بکنگ کی سہولت کا فائدہ بھی نہیں ملے گا۔ انہیں ایجنسی کے چکر کاٹنے پڑیں گے۔
Published: undefined
پوچھے جائیں گے یہ سوال:
کیا خاندان میں 6 یا اس سے زیادہ ارکان ہیں؟
کیا خاندان میں مہمان آئے ہیں؟
شادی، بھنڈارا یا کوئی اور تقریب ہے؟
دوسرے گھریلو استعمال کے لیے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined