قومی خبریں

طالبہ کی موت کا معاملہ: شمبھو ہاسٹل کے مالک منیش رنجن کی درخواست ضمانت پٹنہ کورٹ سے مسترد

پٹنہ میں نیٹ طالبہ کی موت کے معاملے میں شمبھو ہاسٹل کے مالک منیش رنجن کو عدالت سے راحت نہیں ملی۔ پٹنہ کی عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی، جبکہ پٹنہ ایمس کی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>

سوشل میڈیا

 

پٹنہ میں نیٹ کی ایک طالبہ کی پراسرار موت کے معاملے میں شمبھو ہاسٹل کے مالک منیش رنجن کو عدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ پٹنہ ہلہ عدالت نے جمعرات کو ان کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔ اس معاملے کی سماعت پہلے درجے کی جوڈیشل مجسٹریٹ پرینکا کماری کی عدالت میں ہوئی، جہاں دونوں فریقوں کے دلائل سنے گئے۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے منیش رنجن کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔

Published: undefined

منیش رنجن کی گرفتاری 15 جنوری کو عمل میں آئی تھی۔ وہ اسی عمارت کے مالک ہیں جہاں متوفیٰ نیٹ طالبہ رہائش پذیر تھی۔ خیال رہے کہ اس معاملے میں اب تک وہی واحد ملزم ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل منیش رنجن نے عدالت میں ریگولر بیل کے لیے درخواست دائر کی تھی، جسے سماعت کے بعد مسترد کر دیا گیا۔

اس کیس میں 14 جنوری کو پی ایم سی ایچ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی تھی، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ جنسی تشدد کے امکان سے مکمل طور پر انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اسی رپورٹ کی بنیاد پر اگلے دن یعنی 15 جنوری کو منیش رنجن کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں اور متوفیٰ طالبہ کے اہل خانہ نے سوال اٹھایا تھا کہ ملزم کو پولیس ریمانڈ پر لے کر تفصیلی پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی۔

Published: undefined

فی الحال اس معاملے کی جانچ خصوصی تفتیشی ٹیم کے ذریعے جاری ہے اور طالبہ کی موت کی اصل وجہ اب بھی ایک بڑا سوال بنی ہوئی ہے۔ پی ایم سی ایچ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کو دوسری رائے کے لیے پٹنہ ایمس بھیجا گیا ہے، جس کی رپورٹ کا متاثرہ خاندان کو بے چینی سے انتظار ہے۔

واضح رہے کہ نیٹ طالبہ 6 جنوری کو شمبھو ہاسٹل کے اپنے کمرے میں بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی تھی۔ ابتدا میں اسے ایک نجی سرجری سینٹر لے جایا گیا، جہاں سے اسی دن اسے پربھات میموریل اسپتال ریفر کیا گیا۔ وہاں تین دن تک علاج چلتا رہا، مگر حالت میں بہتری نہ آنے پر اسے میدانتا منتقل کیا گیا، جہاں 11 جنوری کو اس کی موت ہو گئی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined