قومی خبریں

ممبئی کے تاج ہوٹل پر 22 کروڑ روپے کا بقایہ، بی ایم سی نے ادائیگی کے لیے بھیجا نوٹس

2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد تاج پیلس ہوٹل کے احاطے کے چاروں طرف لگائے گئے بولارڈز اور بیریکیڈز کا مقصد ہوٹل میں براہ راست داخلے کو روکنا اور اس لگژری ہوٹل کے قریب سیکورٹی کو مضبوط بنانا تھا

<div class="paragraphs"><p>تاج ہوٹل ممبئی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تاج ہوٹل ممبئی، تصویر سوشل میڈیا

 

ممبئی میں ہوئے 11/26 دہشت گردانہ حملہ کے بعد سیکورٹی کے پیش نظر کولابا میں واقع تاج محل پیلس ہوٹل کے آس پاس سیکورٹی بیریئرز اور بولارڈ لگائے گئے تھے، جو اب تنازعہ کا سبب بن گئے ہیں۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے ان ڈھانچوں کے لیے ہوٹل انتظامیہ کو تقریباً 22 کروڑ روپے کا بقایہ فیس ادا کرنے کا نوٹس بھیجا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ عوامی سڑک اور فٹ پاتھ پر مستقل یا نیم مستقل سیکورٹی رکاوٹیں لگانے کے لیے مقررہ فیس ادا کرنا لازمی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 2008 سے یہ فیس مکمل طور پر جمع نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے سود اور دیگر واجبات کے ساتھ بقایہ رقم بڑھ کر 22 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔

اس بارے میں تاج ہوٹل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ بیریئرز کسی تجارتی مقصد سے نہیں بلکہ عام لوگوں اور ہوٹل کی سیکورٹی یقینی بنانے کے لیے لگائے گئے تھے۔ اس لیے اس پر عائد فیس معاف کی جائے یا کم از کم اس میں خصوصی رعایت دی جائے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے پر بی ایم سی اور ہوٹل انتظامیہ کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ امکان ہے کہ اگلے ہفتے اس معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ معاملہ نیا نہیں ہے۔ 2020 میں شیوسینا کی یو بی ٹی کی قیادت والی اس وقت کی مستقل کمیٹی نے فیس میں رعایت دینے کی تجویز کو منظوری دی تھی۔ کمیٹی نے تاج محل پیلس ہوٹل کو عوامی سڑکوں پر سیکورٹی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے تقریباً 10 کروڑ روپے کی رعایت دینے کی منظوری دی تھی۔ تاہم، 2025 میں ریاستی حکومت کے ذریعے مقرر کیے گئے منتظم نے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے معاملہ ایک بار پھر زیر التوا ہے اور اب بی ایم سی کے نوٹس کے بعد دوبارہ بحث میں آ گیا ہے۔

2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد تاج پیلس ہوٹل کے احاطے کے چاروں طرف لگائے گئے بولارڈز اور بیریکیڈز کا مقصد ہوٹل میں براہ راست داخلے کو روکنا اور اس لگژری ہوٹل کے آس پاس سیکورٹی کو مضبوط بنانا تھا۔ حکام کے مطابق بی ایم سی کے قواعد کے تحت عوامی سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر بیریکیڈ لگانے کے لیے فیس عائد کرنا لازمی ہے، جس کے نتیجے میں 2008 میں پہلی بار بیریکیڈ لگائے جانے کے بعد سے 22 کروڑ روپے تک کا بقایہ جمع ہو گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔