امریکہ نے مسلسل پانچویں دن ایران میں مچائی تباہی، جنگ کا دائرہ آبنائے ہرمز سے بڑھ کر بحر احمر تک پہنچنے کا اندیشہ
امریکی فوج کے سنٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خرگ جزیرہ کی طرف جا رہے ایل تیل ٹینکر کو ہیل فائر میزائل سے غیر فعال کر دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ایک بار پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ امریکہ کی طرف سے مسلسل پانچویں دن ایران میں میزائل اور ڈرون کے ذریعہ حملہ کیا گیا ہے۔ خاص طور سے ایران کی راجدھانی تہران میں امریکہ کی جانب سے شدید بمباری کی گئی ہے۔ اس بمباری کی وجہ سے جانی و مالی دونوں طرح کے نقصانات کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، حالانکہ فی الحال اس بارے میں تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔
اس درمیان امریکی فوج کے سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خرگ جزیرہ کی طرف جا رہے ایک تیل ٹینکر کو ہیل فائر میزائل سے غیر فعال کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے ایران کے کئی فوجی ٹھکانوں، ایئر ڈیفنس سسٹم اور میزائل-ڈرون سائٹس پر بھی تازہ حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کا ایران نے بھی بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے ذریعہ ایران پر از سر نو بحری ناکہ بندی نافذ کیے جانے اور ہوائی حملے تیز کیے جانے کے بعد ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بحرین اور کویت میں میزائل الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔ اردن نے بھی کہا ہے کہ اس نے اپنے ہوائی علاقہ میں داخل ہونے والی میزائلوں کو مار گرایا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ تازہ حالات میں آبنائے ہرمز ایک بار پھر دونوں ممالک کا ہدف بن چکا ہے۔ خاص طور سے آبنائے ہرمز میں کچھ جہازوں پر ایرانی حملے کے بعد کئی شپنگ کمپنیاں امریکی فوجی نگرانی والے راستہ کا استعمال کرنے سے پرہیز کر رہی ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاز اب ایران اور عمان کے ساحلوں کے پاس تیار متبادل راستوں کا استعمال کر رہے ہیں۔
تازہ کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران جنگ آبنائے ہرمز سے آگے بڑھ کر بحر احمر تک پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ یعنی جنگ کا دائرہ بڑھنے کا اندیشہ ہے، جس نے عالمی سطح پر فکر کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ ایران نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکہ کے حملے جاری رہے تو جنگ آبنائے ہرمز سے بڑھ کر بحر احمر تک پھیل سکتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کے مطابق اس سے حوثی باغیوں کے ذریعہ مزید ایک اہم عالمی سمندری راستہ پر خطرہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا تازہ حالات میں مذاکرہ کا عمل جیسے بہت پیچھے چھوٹ چکا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے کچھ لوگ ایران کے ساتھ امن مذاکرہ کو کمزور کرنے اور جنگ کو طویل کھینچنے کے لیے امریکی مینڈیٹ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دعویٰ ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
